
Mirza Farhan Ariz
Mirza Farhan Ariz
Mirza Farhan Ariz
Ghazalغزل
تو مبتلائے عشق ہے غم کا نصاب ڈھونڈ عنوان جس کا ہجر ہو ایسی کتاب ڈھونڈ اوروں کی روشنی پہ نہ رکھ تو بری نظر اپنی ہی چھت کے نیچے کوئی آفتاب ڈھونڈ کوشش کو اپنی ایک نیا رنگ روپ دے دل کے اجاڑ باغ میں تازہ گلاب ڈھونڈ یہ نیک ہستیاں ہیں یہاں میرا کام کیا تو میرے واسطے کوئی جائے خراب ڈھونڈ یا مجھ کو دست یار سے پانی کا گھونٹ دے یا جو رگوں کو تر کرے ایسی شراب ڈھونڈ وہ جس پہ چند روز تکبر رہا تجھے عارضؔ کہاں گیا ترا زور شباب ڈھونڈ
tu mubtalaa-e-ishq hai gham kaa nisaab DhunD
ایک صورت تو ہے جو اس نے محبت کی ہے بات جذبے کی ہے یا بات ضرورت کی ہے وہ بھی کیسا ہے کسک دل کی سمجھتا ہی نہیں میں بھی کیسا ہوں نہ شکوہ نہ شکایت کی ہے حوصلہ ہار دیا جلد ہی میں نے اپنا چھوڑ دینے میں ذرا اس نے بھی عجلت کی ہے کیا ستم ہے کہ بہاروں کے حسیں موسم میں ہم پرندوں نے ترے شہر سے ہجرت کی ہے کچھ نمی سی مری آنکھوں میں امنڈ آتی ہے جب کہے کوئی کہ میں نے بھی محبت کی ہے چاہے سارا ہی زمانہ ہے مخالف اس کا پھر بھی عارضؔ نے فقط اس کی حمایت کی ہے
ek surat to hai jo us ne mohabbat ki hai
بن کے یوسف میں کبھی زیر قفس جاتا ہوں کبھی مجنوں کی طرح دشت میں پھنس جاتا ہوں جب بھی اٹھتے ہیں تری یاد کے شعلے دل سے کھال بچتی ہے میں اندر سے جھلس جاتا ہوں اپنے حصے کے اجالے بھی اسے دیتا ہوں خود اندھیروں میں اجالوں کو ترس جاتا ہوں خواب بن کے میں گزرتا ہوں کئی آنکھوں سے پھر جو بھاتی ہے اسی آنکھ میں بس جاتا ہوں بن کے اٹھتا ہوں بخارات دل تنہا سے پھر میں آنکھوں کی گھٹاؤں سے برس جاتا ہوں
ban ke yusuf main kabhi zer-e-qafas jaataa huun
اس کی یادوں سے لے کے منظوری بعد مدت کے نیند کی پوری وصل ہے اپنی ذات کی قربت ہجر ہے اپنے آپ سے دوری روشنی کر دیا جلا لیکن دھیان میں رکھ ہوا کی مخموری زندگی نام رکھ دیا اس کا نام رکھنا تھا جس کا مجبوری تم جو چاہو نہ دو کوئی اجرت دل مسلسل کرے گا مزدوری
us ki yaadon se le ke manzuri
غم بھلا کیسے کھلے اس پہ ہمارے والا ہم تو ہیں بیچ بھنور کے وہ کنارے والا ہم نے پہنی ہے قبا ہجر مسلسل والی اس کا آنچل ہے مقدر کے ستارے والا رات اک پھر سے گزاری ہے کسی وحشت میں ایک دن پھر سے گزارا ہے گزارے والا اپنے رستے پہ ہی رہتا ہوں میں لیکن مجھ کو راستہ کھینچتا رہتا ہے تمہارے والا اک پتنگے نے چراغوں سے کہا ہے عارضؔ پیار تو اصل میں سودا ہے خسارے والا
gham bhalaa kaise khule us pe hamaare vaalaa
ترا عشق اور ہجر آلام دو تھے محبت میں اک دل پہ کہرام دو تھے تری آس کا تھا یہ عالم کہ شب بھر میں تنہا تھا کمرے میں اور جام دو تھے الجھ ہی گیا میں خریداری کرتے دکانوں میں ہر چیز کے دام دو تھے بڑے لوگ تھے میرے قصے میں شامل مگر میرے قصے میں بدنام دو تھے نکل آئے تھے وہ بھی جب چاند نکلا نظارے بھی عارضؔ لب بام دو تھے
tiraa ishq aur hijr aalaam do the





