SHAWORDS
M

Mirza Hamid Lakhnavi

Mirza Hamid Lakhnavi

Mirza Hamid Lakhnavi

poet
2Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ghaflat-e-chaaraagar ko kyaa kahiye

غفلت چارہ گر کو کیا کہیے اور درد جگر کو کیا کہیے خوب بیٹھے بٹھائے مول لیا مفت کے درد سر کو کیا کہیے دل جگر ہو گئے تہ و بالا ان کی نیچی نظر کو کیا کہیے کعبہ کس سمت ہے یہ ہوش کہاں جا رہے ہیں کدھر کو کیا کہیے ارے پتھر کہیں پسیجا ہے نالۂ بے اثر کو کیا کہیے بات بھی اب تو کی نہیں جاتی ہائے درد جگر کو کیا کہیے بن گئی ہے نشان منزل کا گرد راہ سفر کو کیا کہیے ذرے ذرے میں اس کے دنیا ہے آپ کی رہ گزر کو کیا کہیے ہو گئے خاک تکتے تکتے راہ آہ اس بے خبر کو کیا کہیے شب فرقت کی تیرگی توبہ قبر ہے اپنے گھر کو کیا کہیے ہے عدم پر گمان ہستی کا اس فریب نظر کو کیا کہیے کس پہ الزام عشق ہے حامدؔ دل کو کہیے نظر کو کیا کہیے

غزل · Ghazal

koi pursaan-e-haal ho to kahein

کوئی پرسان حال ہو تو کہیں اور ہم سے سوال ہو تو کہیں درد میں اعتدال ہو تو کہیں کچھ جو حالت بحال ہو تو کہیں جب سخن کی مجال ہو تو کہیں گفتنی دل کا حال ہو تو کہیں ستم و جور کا نہیں شکوہ دل میں گرد ملال ہو تو کہیں حسن یوسف ہے قصۂ ماضی ان کی کوئی مثال ہو تو کہیں فائدہ کیا کہ بات بھی جائے آپ کو کچھ خیال ہو تو کہیں سانس اکھڑتی ہے بات کرنے میں طاقت عرض حال ہو تو کہیں آپ ہی کا خیال ہے ہم کو اور کوئی خیال ہو تو کہیں کیوں چھپائیں نا درد دل حامدؔ کہنے کا کچھ خیال ہو تو کہیں

Similar Poets