SHAWORDS
Mirza Naseer Khalid

Mirza Naseer Khalid

Mirza Naseer Khalid

Mirza Naseer Khalid

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

sab sikandar ghaznavi baabar ke shaidaai mile

سب سکندر غزنوی بابر کے شیدائی ملے کوئی تو مجھ کو یہاں پورس کا بھی بھائی ملے اب بھی ہے انساں جہالت کے اسی معیار پر آج بھی منصور آ جائے تو رسوائی ملے چاہتوں میں بس خسارہ ہی خسارہ ہے مگر لوگ جتنے بھی ملے چاہت کے شیدائی ملے تھک چکے ہیں رات دن کی انجمن آرائی سے اے ہجوم شہر اب تھوڑی سی تنہائی ملے بخش دیجے اب ہمیں بھی باریابی کا شرف منتظر کب سے کھڑے ہیں کچھ تو شنوائی ملے فکر کی گہرائی سے نکلے اچھوتا جب خیال کیوں نہ ہر محفل میں پھر اس کو پذیرائی ملے دوست شامل ہو گئے خالدؔ عدو کی فوج میں معجزہ ہوگا اگر اب بھی نہ پسپائی ملے

غزل · Ghazal

kaun itnaa kahe qaatil se ki 'iisaa ho jaa

کون اتنا کہے قاتل سے کہ عیسیٰ ہو جا ہو کے مصلوب تو افلاک سے اونچا ہو جا چارہ گر کوئی کہاں کرتا ہے چارہ سازی اے مرے زخم جگر آپ ہی اچھا ہو جا آج بے مہر زمانے میں بڑی بات ہے یہ غم کے ماروں کے لیے ایک دلاسا ہو جا زندگی چین سے اپنی جو بسر کرنی ہے چھوڑ دے سب کو مری جان اکیلا ہو جا جتنی بھی آگ وہ برسائے مگر میں خالدؔ کیسے سورج سے یہ کہہ دوں کہ تو ٹھنڈا ہو جا

غزل · Ghazal

faraagh-e-mehr-o-vafaa se jo haT nahin saktaa

فراغ مہر و وفا سے جو ہٹ نہیں سکتا کبھی سماج سے ملت سے کٹ نہیں سکتا جو صدق دل سے تو کر دے مری ستائش بھی مجھے یقیں ہے ترا قد بھی گھٹ نہیں سکتا حوالہ اس کا کبھی معتبر نہیں رہتا جو آپ اپنے اصولوں پہ ڈٹ نہیں سکتا مرے وجود کی سب کرچیاں سنبھال کے رکھ کہ اب مزید میں ٹکڑوں میں بٹ نہیں سکتا کسی کا ساتھ نہ ہو تو بہت ہی مشکل ہے یہ زندگی کا سفر یوںہی کٹ نہیں سکتا اسے عمل کے پسینے کی بارشوں سے بٹھا غبار راہ دعاؤں سے چھٹ نہیں سکتا بہو کو اپنی ہی بیٹی سمجھ لے ساس اگر تو پھر کسی پہ بھی چولہا یہ پھٹ نہیں سکتا فقط اسے ہی پتہ ہے میں کیا ہوں اندر سے میں اپنی ذات کے آگے تو ڈٹ نہیں سکتا اور اب تو تخت یا تختے کی بات ہے خالدؔ میں آ گیا جو مقابل تو ہٹ نہیں سکتا

غزل · Ghazal

alfaaz ko hai dil mein utar jaane ki 'aadat

الفاظ کو ہے دل میں اتر جانے کی عادت جس طرح مسافر کو ہے گھر جانے کی عادت رستے میں کھڑے ہو کے سنور جانے کی عادت چہرے کو بھی کچھ اور نکھر جانے کی عادت اک حشر اٹھاتے ہوئے آئیں گے ترے پاس چپ چاپ نہیں ہم کو گزر جانے کی عادت سو قسم کے جھگڑوں سے بچا لیتی ہے مجھ کو ہر بات سے یہ صاف مکر جانے کی عادت غمگین اگر ہوں تو سمٹ جاتے ہیں خود میں لمحات خوشی ہوں تو بکھر جانے کی عادت دنیا میں کبھی سر کو اٹھا کر نہیں چلتے جن کو بھی ہے آفات سے ڈر جانے کی عادت خالدؔ ہے یہ ٹھہراؤ قیامت کی نشانی ہر ایک قدم چھوڑ ٹھہر جانے کی عادت

غزل · Ghazal

jo ulfat ki binaa par jhonpDi hai

جو الفت کی بنا پر جھونپڑی ہے حقیقت میں وہ محلوں سے بڑی ہے تجھے کیا تو تو ہے اک جلتا سورج مجھے تو اپنی آنکھوں کی پڑی ہے ہزاروں رنگ سے ہے جلوہ فرما محبت زندگی ہے پھلجھڑی ہے قدم بوسی کو برکھا رت کی مالن مرے در پر لیے گجرے کھڑی ہے ہمارے رہبروں کا اصل چہرہ عجائب گھر میں رکھی کھوپڑی ہے بنایا دین کو ہے جب سے مذہب سبھی کو صرف بخشش کی پڑی ہے کسی کے روبرو رہنا بھی خالدؔ نہایت آزمائش کی گھڑی ہے

غزل · Ghazal

jis javaan ke siine mein zalzale nahin hote

جس جواں کے سینے میں زلزلے نہیں ہوتے اس جواں کے لہجے میں دبدبے نہیں ہوتے اک ذرا کرو ہمت دنیا بھر کے مظلومو ظالموں میں دیکھا ہے حوصلے نہیں ہوتے جنگ لڑنا پڑتی ہے اپنے زور بازو پر زندگی کے میداں میں معجزے نہیں ہوتے اپنی اپنی محنت کا پھل سبھی کو ملتا ہے آسماں سے قسمت کے فیصلے نہیں ہوتے جتنے چاہیں دولت کے ڈھیر بھی لگا لیں وہ بے ضمیر لوگوں کے مرتبے نہیں ہوتے یا وہ پکڑے جاتے ہیں جو کہ کچھ نہیں کرتے یا وہ جن کے اوپر تک رابطے نہیں ہوتے جو درخت خالی ہوں پھول اور پتوں سے ان پہ پنچھیوں کے بھی گھونسلے نہیں ہوتے بہہ رہا ہے اتنا خوں شہر میں کہ لگتا ہے جنگلوں میں اب شاید بھیڑیے نہیں ہوتے

Similar Poets