Mirza Rahimuddin Haya
Mirza Rahimuddin Haya
Mirza Rahimuddin Haya
Ghazalغزل
maut hi chaara-saaz-e-furqat hai
موت ہی چارہ ساز فرقت ہے رنج مرنے کا مجھ کو راحت ہے ہو چکا وصل وقت رخصت ہے اے اجل جلد آ کہ فرصت ہے روز کی داد کون دیوے گا ظلم کرنا تمہاری عادت ہے کارواں عمر کا ہے رخت بدوش ہر نفس بانگ کوس رحلت ہے سانس اک پھانس سی کھٹکتی ہے دم نکلتا نہیں مصیبت ہے تم بھی اپنے حیاؔ کو دیکھ آؤ آج اس کی کچھ اور حالت ہے
ham bhi dekheinge ki aanaa tiraa kyunkar na huaa
ہم بھی دیکھیں گے کہ آنا ترا کیونکر نہ ہوا یہ بھی اک کھیل ہوا فتنۂ محشر نہ ہوا ہم ہی تھے خاک کے پتلے کہ ہوئے جل کر خاک اے فلک اور کوئی تجھ کو میسر نہ ہوا وائے ناکامئ قسمت کہ کبھی حلق اپنا قابل خنجر و شمشیر ستم گر نہ ہوا ہم نہ کہتے تھے کیا کر نہ سدا شور و فغاں انہیں باتوں سے ٹھکانا دل مضطر نہ ہوا میری وحشت نے کیا حشر میں ہنگامہ سا چاک سو جائے سے کم دامن محشر نہ ہوا حسرت اس عاشق ناشاد پہ جس کا یہ حال نہ ہوا وصل بتاں اور اسے دوبھر نہ ہوا ہم تو کہتے تھے دلا جی کا لگانا ہے برا آخرش آگے وہ آیا نہ کہ بہتر نہ ہوا آب شمشیر ترا کام نہ آیا اپنے دہن خشک و لب تشنہ گلو تر نہ ہوا قسمت غیر ہی اچھی ہے کہ ہر دم ہے وصال ہم سے تو حشر کا بھی وعدہ مقرر نہ ہوا سختیاں تھیں میرے قسمت کی تری الفت میں پیٹنا جاں کا کسی دن بت کافر نہ ہوا ہیں یہ سامان شب عیش کے ناحق طعنے کب تم آئے تھے کہ کچھ مجھ کو میسر نہ ہوا جرم یک بوسہ ابرو پہ کئے دو ٹکڑے ظلم یہ شکوہ یہ باقی کہ برابر نہ ہوا گھر میں جاتی نہیں پہچانی تری شکل حیاؔ اس پہ حسرت کہ در یار پہ بستر نہ ہوا
kahne se ghair ke na karein imtihaan aap
کہنے سے غیر کے نہ کریں امتحان آپ پچھتائیں گے وگرنہ بہت میری جان آپ بے جرم ہم سے ہو کے خفا مہربان آپ چھڑواتے ہیں خدا کی قسم اپنا دھیان آپ میں اور شکوہ آپ کا غیروں کے سامنے یہ وہم یہ خیال بد اور یہ گمان آپ اے عشق تاب صدمۂ غم مجھ میں اب نہیں بیزار زندگی سے ہوں میں ناتوان آپ مر مر کے ہم نے رشک مسیحا کیا تمہیں ہم سے رکھیں دماغ سر آسمان آپ شاید ستم سے ہاتھ اٹھایا رقیب نے رہتے ہیں میرے حال پہ جو مہربان آپ ہم کیوں علاج سینۂ مجروح کا کریں جاتے رہیں گے زخم جگر کے نشان آپ دام بلائے زلف میں دل کو پھنساؤں کیوں ڈالوں میں اس عذاب میں کیوں اپنی جان آپ منظور ہے تمہیں کو جلانا مرا جو روز کرتے ہیں عشق غیر کا آکر بیان آپ وہ شوخ پر جفا و ستم اور خدا کا ڈر رکھتے ہیں اپنے دل میں حیاؔ کیا گمان آپ
mujhe khayaal huaa aur adu ko khvaab huaa
مجھے خیال ہوا اور عدو کو خواب ہوا نصیب پر نہ ہوا یہ کہ ایک عذاب ہوا ہوئی لبوں کو نہ جنبش کہ بس عتاب ہوا تمہارا نام نہ لینا ہوا عذاب ہوا ایک اژدہام ہے اس شوخ کی گلی میں آج مرے نصیب سے محشر بپا شتاب ہوا بگاڑی خو تری کس نے بتا تو اے ظالم زباں پہ بوسہ کا نام آتے ہی عتاب ہوا گلی گلی مرا لاشہ لئے پھرا قاتل پس از فنا بھی یہ مردہ مرا خراب ہوا عجب طرح کا ہے دل سنگ اس کا ورنہ حیاؔ مرے تڑپنے پہ دشمن کا زہرہ آب ہوا
likhaa jo yaar ko mazmun-e-vasl kaa kaaghaz
لکھا جو یار کو مضمون وصل کا کاغذ ہوائے شوق میں پھر کر ہوا ہوا کاغذ پیامبر مجھے دشمن ملا نصیبے سے عدو کے آگے مرا اس کو جا دیا کاغذ خبر ہی لے جو نہ تو اس مریض الفت کی نہ کیونکہ پہنچے تجھے تیرا مبتلا کاغذ کیے جو سوز محبت کے کچھ رقم مضمون تو جل کے خاک وہیں دم میں ہو گیا کاغذ رقیب بن گئے الٹا جواب لکھوایا یہ لے گئے تھی مرے خواب آشنا کاغذ ہمیشہ سینہ پہ ہیں گل رخوں کی تصویریں نصیب رکھتا ہے باغ جہاں میں کیا کاغذ غرض ہمیں ہیں کہ کرتے ہیں خط پہ خط تحریر غرض ہے کیا تجھے لکھے تری بلا کاغذ غضب ہوا کہ ہوئے غیر راز سے واقف پیامبر کی مگر جیب سے گرا کاغذ جواب صاف دیا ہے یہ اس نے پردے میں کہ سادہ بھیج دیا مجھ کو برملا کاغذ نہ تھا رقیب کا گر خوف آپ کے دل میں تو میرا بھیجا ہوا کیوں دکھا دیا کاغذ بتوں سے رکھیو زبانی ہی راہ و رسم پیام لکھا نہ دیجو حیاؔ اپنے ہاتھ کا کاغذ
kyaa tu ne mujh ko ai falak-e-fitna-gar diyaa
کیا تو نے مجھ کو اے فلک فتنہ گر دیا معشوق اک دیا تھا سو اپنا سا کر دیا کیا شکوہ آہ گرم و دم سرد سے کروں جو کچھ دیا خدا نے مجھے بے اثر دیا سو بار رو کے خالی کیا دل کو ہجر میں شوق وصال یار نے سو بار بھر دیا واں شوق ظلم و جور ہے یاں خواہش ستم دونوں کو ایک سا ہے خدا نے جگر دیا لگ جائے دل کو آگ کہ اپنی طرح مجھے بیتاب و بے تحمل او بے صبر کر دیا جلتا نہیں ہے ہائے خدایا دل رقیب کیسا یہ تو نے ہے نفس شعلہ ور دیا دل یہ ہے کوئی ایک بلا کا بنا ہوا بگڑی جو یار سے تو مجھے آگے دھر دیا اے چشم تو نے قہر کیا ضبط کر کے اشک زخم جگر میں اور نمک لے کے بھر دیا کوئی نہ جانتا تھا جہاں میں حیاؔ مجھے عاشق بتوں کی چاہ نے مشہور کر دیا





