SHAWORDS
M

Mittar Singh Aashna

Mittar Singh Aashna

Mittar Singh Aashna

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

dil ke rishte ajiib hote hain

دل کے رشتے عجیب ہوتے ہیں دور رہ کر قریب ہوتے ہیں منزل عشق ہے محال بہت ہر قدم پر صلیب ہوتے ہیں شام فرقت کے جاگنے والے غم کے مارے عجیب ہوتے ہیں آپ ہیں میری زندگی ورنہ آپ کس کو نصیب ہوتے ہیں فاصلے سے ملا کرو سب سے دوست بھی تو رقیب ہوتے ہیں مہرباں جس کے حال پر تم ہو بس وہی خوش نصیب ہوتے ہیں راہ الفت میں آشناؔ اکثر حادثے کچھ عجیب ہوتے ہیں

غزل · Ghazal

mohabbat kaa hasin ehsaas ho tum

محبت کا حسیں احساس ہو تم غنیمت ہے کہ میرے پاس ہو تم یہ کس کی یاد نے دل کو دکھایا بھری محفل میں محو یاس ہو تم نہ جانے کس کی قسمت میں لکھے ہو نہ جانے کس کے دل کی آس ہو تم مرے دل کے نہاں خانے میں دیکھو مرے معصوم دل کی پیاس ہو تم تصور کو خدا آباد رکھے یہ لگتا ہے کہ میرے پاس ہو تم میں خوشبوئے بدن سے آشناؔ ہوں مرے سوکھے لبوں کی پیاس ہو تم

غزل · Ghazal

daastaan-e-gham sunaaun kis tarah

داستان غم سناؤں کس طرح زخم دل ان کو دکھاؤں کس طرح میرے رونے پر لگی ہیں بندشیں آنکھ سے آنسو بہاؤں کس طرح وہ وفا کے نام سے انجان ہے دوستی اس سے نبھاؤں کس طرح پیار سے جب اٹھ گیا ہے اعتماد جان کی بازی لگاؤں کس طرح کاغذی پھولوں کا گلدستہ لیے یار کی محفل میں جاؤں کس طرح پیار کا تحفہ دیا جس نے مجھے ایسے محسن کو بھلاؤں کس طرح آشناؔ تھا جو مرے ہر راز سے ایسے ہمدم کو بھلاؤں کس طرح

غزل · Ghazal

siskiyaan leti rahi thi raat bhar

سسکیاں لیتی رہی تھی رات بھر شمع اک ایسی جلی تھی رات بھر ہر طرف تھا کیف و مستی کا سماں ہر طرف چھائی خوشی تھی رات بھر ہجر میں کوئی شریک غم نہ تھا شمع دل تنہا جلی تھی رات بھر سر اٹھائے تھے اندھیرے کے ہجوم روشنی سہمی ہوئی تھی رات بھر دیکھ کر رعنائیاں چاروں طرف آنکھ میری کب لگی تھی رات بھر کس قدر مغموم تھی بزم شراب دل کو کیسی بیکلی تھی رات بھر آشناؔ چشم تصور کے نثار ان کی ہی جلوہ گری تھی رات بھر

غزل · Ghazal

hosh-o-khirad ke gham se begaana ho gayaa huun

ہوش و خرد کے غم سے بیگانہ ہو گیا ہوں میں تیری آرزو میں دیوانہ ہو گیا ہوں افشا ہوا ہے جب سے الفت کا راز میرا ہر شخص کی زباں پر افسانہ ہو گیا ہوں جی بھر کے میرے دل پر جور و ستم کرو تم میں لذت جفا سے انجانا ہو گیا ہوں یہ بے بسی ہے میری یا بے حسی ہے میری دنیا کی ہر خوشی سے بیگانہ ہو گیا ہوں روشن ہے دل کی دنیا جس کے جمال رخ سے اس شمع آرزو کا پروانہ ہو گیا ہوں پوچھو نہ مجھ سے لوگو روداد زندگانی گلشن تھا پیار کا اب ویرانہ ہو گیا ہوں تم آشناؔ ہو مجھ سے تم بھی تو کچھ بتاؤ ہر شخص کہہ رہا ہے دیوانہ ہو گیا ہوں

غزل · Ghazal

talaash-e-yaar mein har moD se guzarte hue

تلاش یار میں ہر موڑ سے گزرتے ہوئے ملے ہیں لوگ مجھے ٹوٹتے بکھرتے ہوئے کبھی تو آ کے مرے دل کو دے تسلی بھی زمانہ بیت گیا انتظار کرتے ہوئے ہوائیں بغض و کدورت کی چل رہی ہوں جہاں بساؤ پیار کا گلشن وہاں پہ ڈرتے ہوئے یہ سوچ کر کوئی عہد و وفا کرو مجھے سے کہ جان دیں گے رہ شوق سے گزرتے ہوئے تراش ہونے لگا باغباں بہاروں سے چمن کے پھول نظر آئے جو بکھرتے ہوئے یہ مانا کاوشیں قسمت سنوار دیتی ہیں زمانہ چاہئے تقدیر کو سنورتے ہوئے تمہاری بزم میں آئے گا آشناؔ اک دن ہجوم یاس کی چادر کو چاک کرتے ہوئے

Similar Poets