Miyan Haji Tajalli
tarab kaa rang rukh-e-gul pe aashkaar aayaa
طرب کا رنگ رخ گل پہ آشکار آیا کلی سی کھل گئی جوں ہی وہ گلعذار آیا تڑپ کے جان نکل جائے گی ابھی صیاد نہ کہیو باغ میں پھر موسم بہار آیا ملا میں خاک میں مر مر کے آہ پر تو بھی نہ بے قرارئ دل کے تئیں قرار آیا مری وفا پہ تجھے روز شک تھا اے ظالم یہ سر یہ تیغ ہے لے اب تو اعتبار آیا یہ شوق دیکھو پس مرگ بھی تجلیؔ نے کفن میں کھول دیں آنکھیں سنا جو یار آیا