SHAWORDS
Moeen Nizami

Moeen Nizami

Moeen Nizami

Moeen Nizami

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

hai tahayyur-zada is shahr mein khaamoshi bhi

ہے تحیر زدہ اس شہر میں خاموشی بھی کہ سنائی نہیں دیتی کوئی سرگوشی بھی دل گرفتار تذبذب ہے کدھر کو جائے گھر بھی یاد آتا ہے اور دشت فراموشی بھی یہ حقیقت ہے کہ بے مثل ہے خود اس کی طرح اس خوش اندام کی خوش باشی و خوش پوشی بھی ایک دیوار سے مل جاتا ہے سایہ بھی ہمیں اور چاہیں تو کچھ احساس ہم آغوشی بھی مصلحت ہوگی کوئی پیش نظر دھیان رہے اتنی سادہ تو نہیں شیخ کی مدہوشی بھی

غزل · Ghazal

riyaaz-e-marqad-e-mehraab mein basar ki hai

ریاض مرقد محراب میں بسر کی ہے مزشتراب عجب خواب میں بسر کی ہے کسی سبب کی ضرورت نہیں پڑی ہے ہمیں کچھ ایسے عالم اسباب میں بسر کی ہے رہ سلوک سے سیکھا ہے زندگی کا چلن تمام عمر کچھ آداب میں بسر کی ہے

غزل · Ghazal

main ne kahaa thaa aaj na jaaein ghoDe behad thake hue hain

میں نے کہا تھا آج نہ جائیں گھوڑے بے حد تھکے ہوئے ہیں اس نے کہا تھا جانا طے ہے دشمن پیچھے لگے ہوئے ہیں میں نے کہا تھا دائیں طرف کی گھاٹی میں ہم چھپ جاتے ہیں اس نے کہا تھا نا ممکن ہے تیروں میں ہم گھرے ہوئے ہیں میں نے کہا تھا غار میں کاٹیں ہجرت رت کی پہلی راتیں اس نے کہا تھا اس کے بلوں میں سانپ اور بچھو چھپے ہوئے ہیں میں نے کہا تھا پیاس کے مارے کالی ریت پہ مر جائیں گے اس نے کہا تھا ٹھیک ہے لیکن دو مشکیزے بھرے ہوئے ہیں میں نے کہا تھا اس سے آگے چھپنے کی کیا صورت ہوگی اس نے کہا تھا ڈرتے کیوں ہو آگے قلعے بنے ہوئے ہیں میں نے کہا تھا دو ہی ہیں ہم شہر ستم سے جانے والے اس نے کہا تھا بستی میں کچھ اور بھی ساتھی رکے ہوئے ہیں میں نے کہا تھا سنتے ہو تم پیچھے پیچھے آتی ٹاپیں اس نے کہا تھا ہم بھی عجب ہیں دو راہے پر رکے ہوئے ہیں میں نے کہا تھا اب کیا ہوگا دشمن سر پر آ پہنچا ہے اس نے کہا تھا غار کے منہ پر لاکھوں جالے تنے ہوئے ہیں میں نے کہا تھا یہ تو بتاؤ کس کی طرف مہمانی ہوگی اس نے کہا تھا یثرب والے اک دوجے سے بڑھے ہوئے ہیں

غزل · Ghazal

be-mehri-e-dostaan alag hai

بے مہری‌ٔ دوستاں الگ ہے اور اس پہ غم جہاں الگ ہے اعصاب الگ تھکے ہوئے ہیں اور دل ہے کہ سرگراں الگ ہے اس رنج کو بیچ میں نہ لاؤ اس رنج کی داستاں الگ ہے موقوف ہے جو تری نظر پر وہ لذت جاوداں الگ ہے سر سبز ہے جو ترے کرم سے وہ شاخ ملال جاں الگ ہے اے مجمع علم و فضل و دانش تم سب سے مرا بیاں الگ ہے لگتا ہے میں اجنبی ہوں تم میں لگتا ہے مری زباں الگ ہے

غزل · Ghazal

adhuraa rah gayaa majnun se istifaada miraa

ادھورا رہ گیا مجنوں سے استفادہ مرا سو پھر سے دشت کو جانے کا ہے ارادہ مرا عجیب شاخ تھی صندل کی مجھ سے کہتی تھی بجائے سرمہ لگایا کرو برادہ مرا ضرورتوں کی کفالت اسی کے ذمہ ہے جسے خیال ہے مجھ سے کہیں زیادہ مرا شیخ نگاہ تری حاضری کو چل نکلوں ہوائے توبہ سکھا دے اگر لبادہ مرا ترے نثار ترے لطف خاص کے قرباں کہ تیرے ہاتھ نے رکھا ہے دل کشادہ مرا

غزل · Ghazal

savaal us se hamaaraa kahaan nibaah kaa hai

سوال اس سے ہمارا کہاں نباہ کا ہے مطالبہ ہے مگر صرف اک نگاہ کا ہے ہمیشگی کے مراسم تو دل کو راس نہیں علاج اس کا وہی ربط گاہ گاہ کا ہے میں دین عشق میں توحید کا جو قائل ہوں تو معجزہ یہ ترے حسن بے پناہ کا ہے وصال و ہجر سے میں کس کا انتخاب کروں یہاں پہ خود سے مجھے خوف اشتباہ کا ہے خبر نہیں ہے ابھی اس کی کم نگاہی کو کہ ایک مرحلہ خود یہ بھی رسم و راہ کا ہے مورخوں کو کسی اور پر نہ شک گزرے کہ مجھ کو مارنے والا مری سپاہ کا ہے

Similar Poets