SHAWORDS
M

Mohaamad Tahseen Asrar

Mohaamad tahseen Asrar

Mohaamad tahseen Asrar

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

koi alam ke liye hai koi khushi ke liye

کوئی الم کے لئے ہے کوئی خوشی کے لئے ہیں آزمائشیں ہر لمحہ آدمی کے لئے خدا کے واسطے دامن کشاں نہ ہو مجھ سے میں چھوڑ سکتا ہوں دنیا تری خوشی کے لئے سکون ملتا ہے دنیا میں امتحان کے بعد اسی لئے یہ ضروری ہے ہر کسی کے لئے اسی نے لوٹ لیا اپنا کاروان حیات چنا تھا ہم نے جسے اپنی رہبری کے لئے یہیں پہ اپنے پرائے سمجھ میں آتے ہیں ضروری ہے غم دوراں بھی زندگی کے لئے ضرور کرتا ہے وہ ہم پہ رحمتوں کا نزول جہاں بھی جاتے ہیں ہم اس کی بندگی کے لئے

غزل · Ghazal

jazba-e-ikhlaas se vo aashnaa kyon ho gayaa

جذبۂ اخلاص سے وہ آشنا کیوں ہو گیا وہ اچانک مائل لطف و عطا کیوں ہو گیا سنگ باری میں کوئی مصروف جب تھا ہی نہیں چور میری زندگی کا آئنہ کیوں ہو گیا نا خدائی جس سفینے کی تمہیں سونپی گئی وہ سفینہ غرق طوفان بلا کیوں ہو گیا تیرا مقصد تھا سنور جائے نظام زندگی فتنہ سازی تیرا آخر مشغلہ کیوں ہو گیا ڈس لیا مالی کی چشم بد نے کیا اسرارؔ اسے سوچئے تو شاخ سے پتا جدا کیوں ہو گیا

غزل · Ghazal

ham ne yuun parcham-e-meaar uThaa rakkhaa hai

ہم نے یوں پرچم معیار اٹھا رکھا ہے کاغذی پھولوں سے گھر اپنا سجا رکھا ہے سب پہ چھایا ہوا ہے رعب ستم گاری کا دل میں لوگوں نے کہاں خوف خدا رکھا ہے اپنا حق مانگنا کیا جرم کوئی ہے آخر تم نے اس بات پہ کیوں حشر اٹھا رکھا ہے وہ جو غافل ہے یہاں جذبۂ ہمدردی سے نام کیوں اس کا بھلا اہل وفا رکھا ہے میں ترا ظلم نہیں بھولا مگر تیرے لیے آج بھی ذہن کا دروازہ کھلا رکھا ہے جانتا ہے وہ مری عزت و توقیر ہے کیا جس نے نیزے پہ مرے سر کو اٹھا رکھا ہے تم کو معلوم ہے کیا اپنی حقیقت اسرارؔ خود کو آئینے سے کیوں تم نے بچا رکھا ہے

Similar Poets