Mohammad Afsar Raunqi
Mohammad Afsar Raunqi
Mohammad Afsar Raunqi
Ghazalغزل
کب وہ کسی حسین سے کمتر دکھائی دے مجھ کو نہ اس کا کوئی بھی ہمسر دکھائی دے ہے بے وفا کوئی تو کوئی خوگر ستم مہر و وفا کا کوئی تو پیکر دکھائی دے کیا پر سکوں نظام تھا کل تیری بزم کا ہر سمت آج اک نیا محشر دکھائی دے اس کے ہزار رنگ ہیں اس کے ہزار روپ قاتل دکھائی دے کبھی دلبر دکھائی دے پائی گئی ہے محفل شعر و سخن اداس رونقؔ سا اب نہ ہم کو سخنور دکھائی دے کس حال میں ہیں کیسے گزرتے ہیں رات دن یہ پوچھنا جو آپ کو افسرؔ دکھائی دے
kab vo kisi hasin se kamtar dikhaai de
تو ادا شناس وفا نہیں تو میں دل لگا کے کروں گا کیا تو نہ نغمہ ساز حیات ہے ترے گیت گا کے کروں گا کیا اسی رہ گزر پہ ملے تھے ہم یہیں ساتھ ساتھ چلے تھے ہم یہیں میری منزل شوق ہے میں یہاں سے جا کے کروں گا کیا تو ہے ہر نفس مری زندگی یہ ہے میرا مسلک بندگی تری یاد جزو حیات ہے تجھے میں بھلا کے کروں گا کیا وہ فضا ہی جیسے بدل گئی مری حسرتوں کو مسل گئی نہ وہ شاخ گل ہے نہ آشیاں میں چمن میں جا کے کروں گا کیا یہی افسرؔ اپنا مقام ہے کہیں سجدہ کرنا حرام ہے ہے انہیں کا در ہی حرم مجھے کہیں سر جھکا کے کروں گا کیا
tu adaa-shanaas-e-vafaa nahin to main dil lagaa ke karungaa kyaa
غم ہے اک بوجھ جسے دل پہ اٹھائے رکھیے عظمت عشق کی توقیر بڑھائے رکھیے ٹوٹ کر آنکھ سے مٹی میں نہ مل جائیں کہیں اشک غم ہیں انہیں دامن پہ سجائے رکھئے بے رخی ان کی محبت میں بدل جائے گی شمع امید ابھی دل میں جلائے رکھیے دامن ضبط نہ چھٹ جائے کہیں ہاتھوں سے اشک غم کو یوں ہی پلکوں میں چھپائے رکھیے ان کا بخشا ہوا ہر زخم ہے نعمت افسرؔ ان کے ہر تیر کو سینے سے لگائے رکھیے
gham hai ik bojh jise dil pe uThaae rakhiye
اک جرم محبت کی کیا اور سزا ہوگی تنہائی کے غم ہوں گے مرنے کی دعا ہوگی جب حسن کے ہاتھوں سے تکمیل وفا ہوگی وہ صبح بھی کیا ہوگی وہ شام بھی کیا ہوگی جائے تو کہاں جائے اب چھوڑ کے رسوائی اس کی بھی گزر کیسے اب میرے سوا ہوگی اک جشن مسرت میں کچھ ڈوبتی آوازیں ٹوٹے ہوئے شیشوں کی پر درد صدا ہوگی ہر عکس گرفتار آئینہ ہے اے افسرؔ پرچھائیں بھی انساں کی آئینہ نما ہوگی
ik jurm-e-mohabbat ki kyaa aur sazaa hogi





