Mohammad Aftab Ahmad Saqib
بن سنور کر جو وہ بازار نکل جاتے ہیں دیکھنے والوں کے جذبات مچل جاتے ہیں ہر طرف ہوتا ہے مشتاق نگاہوں کا ہجوم دل تڑپتے ہوئے سینوں سے نکل جاتے ہیں برق گرتی ہے جدھر آنکھ اٹھا کر دیکھیں حدت حسن سے اعصاب پگھل جاتے ہیں اچھے لگتے ہیں حسیں لوگ ہمارے دل کو غم کے مارے ہوئے ہم لوگ بہل جاتے ہیں سیر کو آتے ہیں گلشن میں رقیبوں کی طرح پھول سارے وہ گلستاں کے مسل جاتے ہیں پر کشش جتنے ہیں اس شوخ جوانی کے نقوش سارے نقشے مرے اشعار میں ڈھل جاتے ہیں جانے کیوں لوگ ترستے ہیں بہاروں کے لیے ہم تو احساس کی شدت ہی سے جل جاتے ہیں ایک ہلچل سی مچا دیتی ہے صورت ان کی چکنی مٹی پہ مرے پاؤں پھسل جاتے ہیں رات بھر یہ دل وحشی نہیں سوتا ثاقبؔ سوچ کے رنگ اندھیرے میں بدل جاتے ہیں
ban-sanvar kar jo vo baazaar nikal jaate hain