
Mohammad Afzal
Mohammad Afzal
Mohammad Afzal
Ghazalغزل
jo log bhi haalaat se ghabraae hue hain
جو لوگ بھی حالات سے گھبرائے ہوئے ہیں چوکھٹ پہ تمہاری وہ سبھی آئے ہوئے ہیں جن کو بھی ملی خاک در یار ذرا سی بے نور جبینوں کو وہ چمکائے ہوئے ہیں دامن کو جھلسنے سے بچانے کی غرض کیا شعلے یہ تمہارے ہی تو بھڑکائے ہوئے ہیں چاہو تو اگر بانٹ لو ہم سے غم ہجراں ہم بھی تو کسی شخص کے ٹھکرائے ہوئے ہیں رکھے ہیں وہ زندان کو آباد خوشی سے زنجیر غلامی کی جو کھنکائے ہوئے ہیں چاٹے ہیں ترے ہجر کے لمحات بدن کو یہ وصل کے امکان مجھے کھائے ہوئے ہیں محفل میں گھماتے ہوئے انگلی سے وہ کاکل کیا جانیے کس کس پہ ستم ڈھائے ہوئے ہیں اب کیسے بتاؤں تری زلفوں سے زیادہ دنیا کے مسائل مجھے الجھائے ہوئے ہیں اپنوں سے ہی کرنی ہے ہمیں اپنی حفاظت اللہ یہ کس دور میں ہم آئے ہوئے ہیں پڑتی ہی نہیں ہیں کبھی خوشیوں کی شعاعیں ہر سمت مرے ابر ستم چھائے ہوئے ہیں افضلؔ نہیں رہتا کوئی دنیا میں ہمیشہ پھر آپ یہ کس بات پہ اترائے ہوئے ہیں
aaj tak jo na mire ashk-e-ravaan tak pahunche
آج تک جو نہ مرے اشک رواں تک پہنچے غیر ممکن ہے کہ وہ درد نہاں تک پہنچے ہائے طالب جو ہوئے کاکل خم دار کے ہم دیکھیے آپ ہی خود اپنے زیاں تک پہنچے یاد کرنے پہ تجھے ایسے بھی آتے ہیں خیال آج تک جو نہ کبھی میرے گماں تک پہنچے کاش ایسی ہو عطا قوت گفتار مجھے میں یہاں سوچوں مری بات وہاں تک پہنچے کوئے جاناں کے لئے ہی نہیں مخصوص رکھا میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے خوب دیتا ہے مجھے لطف سفر آپ کا وہ بارہا فون پہ کہنا کہ کہاں تک پہنچے راہ بھٹکی ہے مسرت مرے کوچے سے مگر رنج دنیا کے سبھی میرے مکاں تک پہنچے دیر سے ہی سہی پر دیکھ مرے نقش قدم دشت میں قیس کے ہر ایک نشاں تک پہنچے شاعری کا تو مجھے شوق نہیں تھا افضلؔ ان کی نظروں سے گرے ہیں تو یہاں تک پہنچے
jo log bhi dar se tire mansub rahe hain
جو لوگ بھی در سے ترے منسوب رہے ہیں فردوس کے وہ پھر کہاں مطلوب رہے ہیں حاصل ہے شرف جن کو گدائی کا تمہاری سب لوگ انہیں کے یہاں مغلوب رہے ہیں دراصل وہی لوگ تمہیں پار ملیں گے جو آگ کے دریا میں ابھی ڈوب رہے ہیں اشعار کی صورت میں بھلا کیسے بیاں ہو جلوے در جاناں کے بہت خوب رہے ہیں چھوٹے گا نہیں صبر کا دامن کہ ہمارے اسلاف کبھی حضرت یعقوب رہے ہیں تم چاہو اگر بانٹ لو ہم سے غم ہجراں ہم بھی تو کسی کے کبھی محبوب رہے ہیں جن سے بھی نظر پھیر لی رب نے مرے افضلؔ نظروں میں زمانے کی وہ معیوب رہے ہیں
us ko qubul meri judaai na ho saki
اس کو قبول میری جدائی نہ ہو سکی تنہائی میری مجھ سے پرائی نہ ہو سکی بچپن سے اس کو شوق تھا مہندی کا دوستو لیکن ہتھیلی اس کی حنائی نہ ہو سکی جتنے پہ مانگ لیتا میں اس کا جہاں سے ہاتھ اتنی کبھی بھی میری کمائی نہ ہو سکی گزری تمام عمر اصولوں کی قید میں میری کبھی بھی ان سے رہائی نہ ہو سکی خوشیاں جو روٹھیں ہم سے تو مانی نہیں کبھی لیکن غموں سے ایسی جفائی نہ ہو سکی کیوں ناخدا کو ڈوبنے والا نہیں دکھا کیوں پر اثر کسی کی دہائی نہ ہو سکی واقف ہوں تیرے در کی سیاست سے اس لئے مجھ سے تمہارے در کی گدائی نہ ہو سکی سب کی لگائی ہم نے بجھائی تمام عمر ہم سے کبھی لگائی بجھائی نہ ہو سکی صحرا سے آ کے شہر سخن میں ٹھہر گئے صحرا میں ہم سے آبلہ پائی نہ ہو سکی تجھ سے کسی کا ساتھ نبھایا نہیں گیا تجھ سے کبھی کسی کی بھلائی نہ ہو سکی جانے کہاں سے سیکھ لی اس نے جفائیں اور ہم نے وفا جو اس کو سکھائی نہ ہو سکی وہ اٹھ گیا جو بزم سخن سے سو اس کے بعد اہل سخن سے شعر سرائی نہ ہو سکی
aamad-e-yaar ki aai jo khabar haule se
آمد یار کی آئی جو خبر ہولے سے کھل گئے میری تمناؤں کے پر ہولے سے ایک طوفان اٹھائے ہوئے بیٹھا ہے یہاں وہ مرے دل میں گیا تھا جو اتر ہولے سے شور کیونکر تو مچاتا ہے مسیحا یہ بتا دیکھ بیمار گیا ہے ترا مر ہولے سے راکھ سمجھے ہے محبت کو یہ دنیا جو کبھی رقص کرتا ہے کہیں کوئی شرر ہولے سے کاش مل جائے مجھے میری دعاؤں کا صلہ کاش کھل جائے کسی روز وہ در ہولے سے کیا ہوا ہے کہ ترے بعد مہ و سال مرے بن چھوئے ہی مجھے جاتے ہیں گزر ہولے سے راہ دشوار سہی ساتھ تمہارا ہو اگر یار کٹ جائے گا سانسوں کا سفر ہولے سے خار تب سے ہی نظر میں ہے سبھی کی افضلؔ آپ نے جب سے ہے کی اس پہ نظر ہولے سے





