SHAWORDS
Mohammad Afzal Khan

Mohammad Afzal Khan

Mohammad Afzal Khan

Mohammad Afzal Khan

poet
16Ghazal

Ghazalغزل

See all 16
غزل · Ghazal

hai 'ishq to phir jaan se guzar kyon nahin jaate

ہے عشق تو پھر جاں سے گزر کیوں نہیں جاتے قاتل اسے کہتے ہو تو مر کیوں نہیں جاتے ایفا کا اگر دل میں ارادہ ہی نہیں ہے وعدے سے پھر اے دوست مکر کیوں نہیں جاتے دنیا میں حسیں اور مناظر بھی بہت ہیں تم کوچۂ جاناں سے گزر کیوں نہیں جاتے قاتل تمہیں اب دیکھ کے گھبرانے لگے ہیں مقتل میں بہ انداز دگر کیوں نہیں جاتے سنتے تھے کہ آئے گا کبھی وصل کا موسم پھر ہجر کے یہ شام و سحر کیوں نہیں جاتے جذبہ ہے اگر دل میں تو پھر روشنی بن کر تاریک فضاؤں میں بکھر کیوں نہیں جاتے صیاد سے گر اہل چمن اتنے خفا ہیں اس بار کوئی فیصلہ کر کیوں نہیں جاتے

غزل · Ghazal

yuun to har jang mein ham had se guzar jaate hain

یوں تو ہر جنگ میں ہم حد سے گزر جاتے ہیں لیکن اس عشق کے میدان میں ڈر جاتے ہیں ہم تو مدت سے سلامت ہیں اسی آتش میں لوگ نزدیک بھی آتے ہیں تو مر جاتے ہیں آپ جتنی بھی حفاظت سے انہیں رکھ لیجے دل کے آئینے بہت جلد بکھر جاتے ہیں بات چاہے وہ رقیبوں سے کریں لیکن ہم ان کا دیدار ہی کرنے کو ٹھہر جاتے ہیں جس کو تھوڑی بھی اداکاری نہیں آتی ہے سارے الزام اسی شخص کے سر جاتے ہیں حشر کے دن تو یہ آنکھوں کو لہو کر دیں گے زخم یہ ایسے نہیں ہیں کہ جو بھر جاتے ہیں یہ بہت ہے کہ تعلق یہ کئی سال رہا ورنہ کتنے تو بس اک پل میں مکر جاتے ہیں یاد صحرا کی ستاتی ہے بہت گلشن میں یعنی دیوانے یہ اب لوٹ کے گھر جاتے ہیں

غزل · Ghazal

jo muskuraa rahe hain bahut meri baat par

جو مسکرا رہے ہیں بہت میری بات پر آ کر وہ تبصرہ بھی کریں ان نکات پر پہلے تو ہر امید کا خوں کر دیا گیا سر لا کے رکھ دیا گیا پھر میرے ہات پر ایسی بھی کوئی ذات ہے اس کائنات میں انگلی کبھی اٹھی نہ ہو جس کی حیات پر دنیا کو کیا ثبوت دکھاؤ گے سوچ لو قائم نہیں رہے گا وہ کل اپنی بات پر سورج کے ڈوبتے ہی اندھیرے تو بڑھ گئے قابو رکھا ہے چاند ستاروں نے رات پر افضلؔ غزل کے فن سے ہے کیا تیرا واسطہ تیری گرفت کیا ہے بتا لفظیات پر

غزل · Ghazal

gar zabaan zulm-o-sitam ki na duhaai degi

گر زباں ظلم و ستم کی نہ دہائی دے گی امن کی راہ بھلا کیسے دکھائی دے گی اک ذرا خوف کے عالم سے نکلنا ہوگا تیری آواز زمانے کو سنائی دے گی قید یوسف کو ہی کر لیں گے زمانے والے یہ زلیخا تو بس اک بار صفائی دے گی وہ سماعت مجھے بخشی ہے محبت نے صنم تیری دھڑکن بھی یہاں مجھ کو سنائی دے گی دل نے اک بار جو طوفان میں کشتی ڈالی عقل کو پھر نہ کوئی بات سجھائی دے گی دل میں غم ہو تو یہ دنیا بھی لگے گی غمگیں دل ہو رنگین تو رنگین دکھائی دے گی اس سے دوری کا نتیجہ ہے مری در بدری اس کی قربت سے ہی اب راہ دکھائی دے گی

غزل · Ghazal

aasaan saare kaam the aghyaar ke liye

آسان سارے کام تھے اغیار کے لیے ہم منتخب ہوئے ذرا دشوار کے لیے ملنا ہے مجھ کو اس سے بس اک بار کے لیے جو مضطرب نہیں ترے دیدار کے لیے بنتی نہیں ہے بات سلیقے سے ہر جگہ لازم ہے کچھ خلوص بھی اظہار کے لیے یوں تو ہر اک مرض کا جہاں میں علاج ہے کچھ کارگر نہیں ترے بیمار کے لیے دو چار لفظ پیار کے تھوڑی دعا سلام تحفے یہ کم نہیں کسی تہوار کے لیے ہر بار جیتنے میں تمہارا کمال تھا کون اب قصوروار ہے اس ہار کے لیے میرے علاوہ کون اٹھاتا یہ بار غم ممنون ہوں بہت ترے آزار کے لیے

غزل · Ghazal

is jahaan-e-kharaab se nikle

اس جہان خراب سے نکلے زندگی کے عذاب سے نکلے جو سمندر دکھائی دیتے تھے وہ مناظر سراب سے نکلے درد نکلے نہ جو دواؤں سے وہ ذرا سی شراب سے نکلے یوں نکلتے ہیں لفظ ہونٹوں سے جیسے خوشبو گلاب سے نکلے راز کچھ تجربوں نے کھول دئے چند نکتے کتاب سے نکلے ہو اگر عزم آگے بڑھنے کا راستہ خود ہی آب سے نکلے شعر افضلؔ اسی کو کہتے ہیں جب سخن اضطراب سے نکلے

Similar Poets