Mohammad Ali Shadan
Mohammad Ali Shadan
Mohammad Ali Shadan
Ghazalغزل
ماضی کا آج دور طرب یاد آ گیا اپنی تباہیوں کا سبب یاد آ گیا جب جب بھی سر اٹھانے لگا ذہن میں گناہ تب تب خدا کا قہر و غضب یاد آ گیا تضحیک اس غریب کی کرتا بھی کیسے میں مجھ کو بھی میرا دست طلب یاد آ گیا حیرت ہے دشمنوں کو مرے حال پر اگر اپنوں کا وہ کرم ہے کہ رب یاد آ گیا اب تو ادب برائے ادب بھی ادب نہیں اسلاف کا وہ دور ادب یاد آ گیا
maazi kaa aaj daur-e-tarab yaad aa gayaa
جو کچھ ہے چھپی دل میں جو ذہن کے اندر ہے وہ بات بہر صورت چہرے سے اجاگر ہے پتھر کی طرح جملے مت پھینک مری جانب بوسیدہ بہت میرے احساس کی چادر ہے لازم ہے پہن رکھیں خود اپنی حفاظت کو تلوار تعصب کی لٹکی ہوئی سر پر ہے وہ مجھ سے خیال اپنے پوشیدہ نہیں رکھتا دشمن ہی سہی لیکن احباب سے بہتر ہے تسکین کی باعث ہے پیاسے کے لئے شاداںؔ اک بوند ہی پانی کی دریا کے برابر ہے
jo kuchh hai chhupi dil mein jo zehn ke andar hai
میں نہ ترسوں گا کبھی ساقی جو ترسانے لگے ہاتھ کے چھالے بھی مجھ کو اب تو پیمانے لگے ترک پینا مے کیا اوروں کے غم کھانے لگے کیف بخش اب ہاتھ کے چھالے کے پیمانے لگے کل تر و تازہ تھے گلشن میں جو چہروں کے گلاب دھوپ میں فکروں کی آج آئے تو مرجھانے لگے دل کا چھالا زخم کی صورت نہ کر لے اختیار حال پر اب میرے اپنے رحم فرمانے لگے کل کا سورج امن کا پیغام لائے یا خدا شام آئی پھر گھروں میں لوگ گھبرانے لگے آج یہ محفل میں کس نے دی الٹ رخ سے نقاب روشنی بڑھنے لگی اور دیپ شرمانے لگے قوم پھر پائے گی شاداںؔ خواب غفلت سے نجات رفتہ رفتہ ہوش میں دیوانے اب آنے لگے
main na tarsungaa kabhi saaqi jo tarsaane lage
یہ تمکنت یہ تکبر یہ شان رہنے دو جو ہے تمہارے بھرم کا مکان رہنے دو سوال عمر نہ پیش آئے نیک مقصد میں ارادے اپنے ہمیشہ جوان رہنے دو انہیں کو دیکھ کے پہنچے گی نسل منزل تک ہر اک قدم پہ لہو کے نشان رہنے دے ہوا کا رخ ہو موافق یہ انتظار کرو ابھی لپیٹے ہوئے بادبان رہنے دو خوشی کے ساتھ اڑاؤ گلال سوئے فلک مگر یہ سن لو زمیں پر امان رہنے دو کسی کی بات سکوں کا سبب ہے اے شاداںؔ مری زباں پہ یہ اک داستان رہنے دو
ye tamkanat ye takabbur ye shaan rahne do





