
Mohammad Amir Aawan
Mohammad Amir Aawan
Mohammad Amir Aawan
Ghazalغزل
تمام شہر سے پورا کرایہ لے رہا ہوں مگر میں آپ سے آدھا کرایہ لے رہا ہوں یہ میری مرضی میں جس سے رعایتیں برتوں یہ مجھ پہ ہے کہ میں کتنا کرایہ لے رہا ہوں ابھی تو اگلے سفر کا حساب ہونا ہے ابھی تو آپ سے پچھلا کرایہ لے رہا ہوں میں اب کوئی بھی تعلق روا نہیں رکھتا پرانے دوست سے پورا کرایہ لے رہا ہوں تمہارے پورے سفر کا کرایہ میں دوں گا اگر میں دوسروں جتنا کرایہ لے رہا ہوں کرایہ لینے کا چسکا لگا ہوا ہے کہ میں کسی سے رات کو ایسا کرایہ لے رہا ہوں ترا کرایہ بھی میں دوں تو کیسے دوں مرے دوست کہ خود کسی سے ادھارا کرایہ لے رہا ہوں
tamaam shahr se puuraa kiraaya le rahaa huun
4 views
ہم ہیں کیا ایک دوسرے کے لیے اسے چھونا ہے تجربے کے لیے وہ جو اب پاس ہے تو مجھ پہ کھلا کتنی دنیا ہے گھومنے کے لیے مجھے کیا علم تھا تماشا ہو میں تو آیا تھا دیکھنے کے لیے ان لبوں پر نہیں ہیں داد کے نوٹ ایک گالی ہے مسخرے کے لیے روز کرتا ہے اپنی من مانی روز آتا ہے مشورے کے لیے کتنی آنکھوں کو چھوڑ آیا ہوں تیری آنکھوں کو دیکھنے کے لیے وہی آواز روکتی رستہ وہی زنجیر مشورے کے لیے
ham hain kyaa ek dusre ke liye
3 views
کچھ بھی ہونے کا مجھ کو ڈر کم ہے شکر ہے دور کی نظر کم ہے میرے اپنے معانی ہوتے ہیں ویسے دنیا کو مختصر کم ہے میرا تصویر سے معاملہ ہے مجھے دیوار کی خبر کم ہے ہم توازن سے اڑ نہیں سکتے ہم پرندوں کا ایک پر کم ہے سوچنے والے کا دماغ نہیں دیکھنے والے کی نظر کم ہے
kuchh bhi hone kaa mujh ko Dar kam hai
3 views
خیر سے خواب سے فرصت بھی نہیں دیکھ لے دوست اجازت بھی نہیں اب مجھے کچھ نہیں اچھا لگتا کسی بچے کی شرارت بھی نہیں دیکھ لے ہوں تو پرانا گاہک سوچ لے اتنی رعایت بھی نہیں جسم صحرا ہے اسے پانی دو دل تو دریا ہے ضرورت بھی نہیں کیا ترا نام نہیں لے سکتا چاند لکھنے کی اجازت بھی نہیں شعر تک میں نے کہے ہیں تجھ پر شام تک تجھ سے محبت بھی نہیں پھول تک باغ سے لے آیا ہوں چاند تک تیری ضرورت بھی نہیں
khair se khvaab se fursat bhi nahin
2 views
پگڑیوں والے پگڑیاں پکڑیں مسخرے ہنس کے ٹوپیاں پکڑیں ہم ذرا گھر سے ہو کے آتے ہیں آپ اتنے میں تتلیاں پکڑیں گھر سے میں گیند ڈھونڈ لاتا ہوں آپ بچوں سے تختیاں پکڑیں جو ہیں شاعر وہ شعر کہتے رہیں جو مچھیرے ہیں مچھلیاں پکڑیں آپ سادوں کا شہر میں کیا کام جائیں گاؤں کی گاڑیاں پکڑیں سگرٹیں پھونکتے ہیں ہم اور آپ ان کا اڑتا ہوا دھواں پکڑیں ہم یہاں ڈوبنے لگے ہیں یار آپ کہتے ہیں چھتریاں پکڑیں
pagDiyon vaale pagDiyaan pakDein
2 views
بس یہی اس کے بن نہیں ہوتا دل کہیں مطمئن نہیں ہوتا ایک دن میں ہزار گھنٹے ہیں میرا دن عام دن نہیں ہوتا سب سے اٹھتا نہیں ہے بار عشق سب میں وحشت کا جن نہیں ہوتا سارے رستے تو عام نئیں ہوتے ہر بدن تو کٹھن نہیں ہوتا رات ہوتی ہے پیار کرنے کو کہنے سننے کو دن نہیں ہوتا ایک دو تین چار پانچ چھ دن مجھ سے اب آگے گن نہیں ہوتا
bas yahi us ke bin nahin hotaa
1 views





