SHAWORDS
M

Mohammad Arshad Azmi

Mohammad Arshad Azmi

Mohammad Arshad Azmi

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

میری تقدیر رہ گئی سوئی التجا کر کے بات بھی کھوئی دیکھ کر گلستاں کی بربادی غم سے شبنم بھی رات بھر روئی سرد مہری کے اس زمانے میں کون کرتا ہے کس کی دل جوئی الاماں دوپہر کی یہ گرمی دھوپ بھی جا کے چھاؤں میں سوئی بو کے کانٹے گلاب کون چنے آگے آتی ہے اپنی ہی بوئی اجلے اجلے وہ آج لگتے ہیں ماش کی دال جس طرح دھوئی ایک سے ایک آج اینٹھا ہے خوش نہیں ہے کسی سے اب کوئی سوز پرواز دیکھ کر ارشدؔ شمع جل جل کے تا سحر روئی

meri taqdir rah gai soi

غزل · Ghazal

اتنی سی حقیقت تو ان اشکوں کی جانی ہے جم جائے تو یہ خوں ہے بہہ جائے تو پانی ہے تم کیا اسے جانو گے تم کیا اسے سمجھو گے یہ داغ جگر میرا الفت کی نشانی ہے ہو جائے مکمل تو افسانۂ دل لکھ دوں کچھ بات گھٹانی ہے کچھ بات بڑھانی ہے اظہار تمنا پر گھبرا کے لگے کہنے اس بات کو اب چھوڑو یہ بات پرانی ہے میرے ہی لیے ان کی شمشیر برہنہ ہے میرا ہی لہو شاید اس دہر میں پانی ہے مخمور نگاہوں کے صدقے میں کسی دن تو دو گھونٹ پلا دو وہ پلکوں نے جو چھانی ہے ارشدؔ بھی عقیدت سے میخانے میں آیا ہے اے پیر مغاں تیری اعجاز بیانی ہے

itni si haqiqat to in ashkon ki jaani hai

غزل · Ghazal

ملی ہے درد کی نعمت نشاط جاں کے لئے نہ آہ و نالہ کی خاطر نہ کچھ فغاں کے لئے نہ کچھ زمیں کے لئے ہے نہ کچھ زماں کے لئے نہ کچھ مکیں کے لئے ہے نہ کچھ مکاں کے لئے نہ علم و فضل کی باتیں نہ علم و فضل میں دخل نہ کچھ ادب کے لئے ہے نہ کچھ بیاں کے لئے ہزار طرح کے ساماں حیات فانی میں کیے ہیں جمع کسی نے تو پھر کہاں کے لئے شعاع برق و شرر چن کے ہم نے رکھی ہے نہال خشک پہ تعمیر آشیاں کے لئے تمہیں نہ ہے کوئی نسبت مری کہانی سے تمہارا نام تو ہے زیب داستاں کے لئے زباں پہ آ ہی گیا جب کہ تیرا نام جمیل دہان نطق نے بوسے مری زباں کے لئے نہیں مجال‌ سخن اس کے روبرو ارشدؔ کہاں سے لاؤں میں تاب و تواں زباں کے لئے

mili hai dard ki neamat nishaat-e-jaan ke liye

غزل · Ghazal

زندگانی ہے مری تیری نظر ہونے تک روشنی شمع کی ہے نور سحر ہونے تک عمر دو روزہ پر اور مال پہ بے جا ہے غرور دیر لگتی ہے کہاں خاک بشر ہونے تک آ ہی جائیں نہ کہیں باد خزاں کے جھونکے وقت درکار ہے پھولوں کو ثمر ہونے تک سانس کی آمد و شد ہے نہ دوامی ہرگز اس کی رفتار بھی ہے درد جگر ہونے تک ذرے ذرے میں بدل جائیں گے یہ شمس و قمر ذرے ذرے بھی تو ہیں شمس و قمر ہونے تک دوش اور پشت کی زینت ہے جو زلف پیچاں ہے پریشان بہت زیب کمر ہونے تک آگ ہے دل میں لگی سینہ بنا ہے بھٹی راکھ ہو جاؤں گا میں دیدۂ تر ہونے تک شکل انساں میں ہر انسان کہاں ہے انساں آدمیت کا شرف تو ہے بشر ہونے تک نا توانوں کو بھی کمزور نہ جانو ہرگز پانی پانی ہے فقط برق و شرر ہونے تک ایک فعال حرارت کی ضرورت بھی تو ہے خاک نمناک کو خشت اور حجر ہونے تک موت کہتے ہیں جسے ہے وہ حیات ابدی موت ہے لازم و ملزوم امر ہونے تک جان بھی جان ہے جب تک ہے بدن کے اندر جسم ہے جسم حسیں نوع دیگر ہونے تک ہاتھ اب کھینچ ہی لو آہ و فغاں سے ارشدؔ کیا نہ مر جاؤ گے تم ان میں اثر ہونے تک

zindagaani hai miri teri nazar hone tak

غزل · Ghazal

چکر سا چل رہا ہے زمین و زماں کے بیچ انسان جی رہا ہے یقین و گماں کے بیچ کیا جانے کیا ہو رنگ شروع و اخیر کا آتا ہے میرا نام تری داستاں کے بیچ یوں ہی مرا وجود ہے اس دور سخت میں گودا ہو جس طرح سے کسی استخواں کے بیچ خود باغباں کے حسن عمل کا فتور ہے بھڑکی ہوئی سی آگ جو ہے گلستاں کے بیچ جو کر سکے نہ سر یہ زمین نظام بھی وہ ڈھونڈتے ہیں عالم نو آسماں کے بیچ

chakkar saa chal rahaa hai zamin-o-zamaan ke biich

غزل · Ghazal

یوں نہ برباد ہو خدا کوئی حال دل سن کے رو دیا کوئی آنکھ سے کیوں ٹپک پڑا آنسو دل کا ٹوٹا ہے آبلہ کوئی درد دل ہے بہت ہی جان گسل درد دل کی نہیں دوا کوئی کوئی تدبیر بن نہیں پاتی کام کرتی نہیں دعا کوئی اس کی خفگی کی جب خبر آئی جان سے ہو گیا خفا کوئی رسم دنیا کی یہ پرانی ہے بے وفا ہے تو با وفا کوئی عشق کے مرحلے کٹھن ہیں بہت ہو سکا طے نہ مرحلہ کوئی راہ الفت بہت ہے پیچیدہ ابتدا ہے نہ انتہا کوئی میں محبت میں جان دے دوں گا مجھ پہ کرتا رہے جفا کوئی خنجر چشم پہ ہے ناز اسے خون دل میں نہا گیا کوئی ایروں غیروں پہ ہے نگاہ کرم ہے نہ ارشدؔ سے واسطہ کوئی

yuun na barbaad ho khudaa koi

Similar Poets