SHAWORDS
M

Mohammad Asif Nazeer

Mohammad Asif Nazeer

Mohammad Asif Nazeer

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

تیری دنیا یہ تیرے گمان و یقیں یا اخی واہمے کے سوا اور کچھ بھی نہیں یا اخی ایک بد شکل سی آرزو کے سوا کچھ نہ تھا ہم سمجھتے رہے جس کو سب سے حسیں یا اخی باس تازہ لہو کی ہواؤں میں ہے چار سو خود کو دیکھوں کہ دیکھوں تری آستیں یا اخی مرشدی آپ کے آستانے کی کیا بات ہے ملتے ہیں اس جگہ آسمان و زمیں یا اخی ارتکاز توجہ سے کب ہوتے ہیں معجزے حبس دم ہی تو حسن تصوف نہیں یا اخی جرم یہ ہے کہ خورشید کے خانوادے سے ہوں مجھ سے خائف ہیں کیوں آپ کے جانشیں یا اخی زندگی مثل شعب ابی طالب آصفؔ کی ہے با خدا سازشوں کے سبب بالیقیں یا اخی

teri duniyaa ye tere gumaan o yaqin yaa-akhi

1 views

غزل · Ghazal

رنگ تخصیص میں تعمیم بھی ہو سکتی ہے وہ اکائی ہوں جو تقسیم بھی ہو سکتی ہے اے مرے غمزۂ غم کیا تجھے احساس نہیں تیرے جذبات کی تفہیم بھی ہو سکتی ہے کچھ نہ ہونے کی خبر پا کے کھلا ہے مجھ پر میری قاتل مری تعلیم بھی ہو سکتی ہے دیکھ لو اس کا سراپا تو یقین آ جائے رنگ اور نور کی تجسیم بھی ہو سکتی ہے وہ اگر چاہے تو کافر کو مسلماں کر دے آذری دین براہیم بھی ہو سکتی ہے ہمیں احساس ہوا بھی تو بچھڑ جانے پر زندگی راہ میں دو نیم بھی ہو سکتی ہے ابھی یہ تیر کماں سے نہیں نکلا آصفؔ ابھی تقدیر میں ترمیم بھی ہو سکتی ہے

rang-e-takhsis mein taamim bhi ho sakti hai

غزل · Ghazal

میرے ہی جیسا کوئی اس پار تھا آنکھ تھی یا روزن دیوار تھا الٹی جانب بہہ رہی تھیں کشتیاں اور ہوا کے ہاتھ میں پتوار تھا آنکھ اٹھا کر دیکھتا کیوں عکس کو آئنہ کا بھی کوئی معیار تھا پاؤں دھرنے کو ملی ایسی زمیں پاؤں دھرنا بھی جہاں دشوار تھا بات کرتے جا رہے تھے آئنہ محو حیرت آئنہ بردار تھا دیکھتا رہتا تھا آنکھیں موند کر نیند میں تھا یا کوئی بیدار تھا پوچھتے ہو کیا بلندی کا سبب زیر پا آصفؔ فراز دار تھا

mere hi jaisaa koi us paar thaa

غزل · Ghazal

پہاڑوں سے ابھی نکلا نہیں تھا میں دریا تھا مگر گہرا نہیں تھا عیاں ہوتا کسی پر راز کیوں کر ابھی وہ وقت ہی آیا نہیں تھا سر مقتل مرے ہی تذکرے تھے مگر میں غار سے لوٹا نہیں تھا حرم تھا منتظر صدیوں سے جس کا وہ کوئی بت شکن آیا نہیں تھا عجب انداز کا تھا علم میرا کسی کے فہم میں آتا نہیں تھا میں ایسے بھیس میں بستی سے گزرا کسی نے مجھ کو پہچانا نہیں تھا شب ہجرت بہت خدشے تھے لیکن زمانہ نیند سے جاگا نہیں تھا کچھ ایسی روشنی چھائی ہوئی تھی کسی کو کچھ نظر آتا نہیں تھا یہی پہچان تھی آصفؔ ہماری ہمارے پاس آئینہ نہیں تھا

pahaaDon se abhi niklaa nahin thaa

Similar Poets