SHAWORDS
Mohammad Askari Arif

Mohammad Askari Arif

Mohammad Askari Arif

Mohammad Askari Arif

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

غم ہائے روزگار سے فرصت نہیں مجھے میں کیسے کہہ دوں تم سے محبت نہیں مجھے اپنو کی سازشوں سے ہی مصروف جنگ ہوں غیروں سے دشمنی کی ضرورت نہیں مجھے دل میں ابھی چبھے ہیں وہ الفاظ تیر سے تو نے کہا تھا جب تری چاہت نہیں مجھے پنہاں ہیں کنج دل میں کئی درد لا دوا بے وجہ مسکرانے کی عادت نہیں مجھے سوغات زخم دل تو مقدر کی بات ہے اے یار تجھ سے کوئی شکایت نہیں مجھے تنہائیوں سے مجھ کو رفاقت سی ہو گئی عارفؔ سیاہ شب سے بھی وحشت نہیں مجھے

gham-haa-e-rozgaar se fursat nahin mujhe

غزل · Ghazal

دل کی دھڑکن تھم گئی درد نہاں بڑھتا گیا جل گئی ہستی مری لیکن دھواں بڑھتا گیا زندگی تو ہی بتا کس جا مجھے لے کر چلی اجنبی رستوں پہ آخر میں کہاں بڑھتا گیا دشت وحشت میں جلا کر ظلمتوں کی بستیاں روشنی کی سمت میرا کارواں بڑھتا گیا اپنی بربادی کا ذمے دار میں یا کوئی اور ذہن میں ہر وقت میرے یہ گماں بڑھتا گیا روح نے چھوڑا جو تنہا جسم کو وقت نزاع بعد پھر اس کے فراق جسم و جاں بڑھتا گیا طفل سے لے کر عدم تک زندگی کے ساتھ ساتھ سر پہ میرے بار امید گراں بڑھتا گیا زندگی اور موت کا یوں سلسلہ چلتا رہا تنگ تھا پچھلا جہاں اگلا جہاں بڑھتا گیا ہر قدم تھا ساتھ عارفؔ میرا نفس دائمی ابتدا سے انتہا تک میں جہاں بڑھتا گیا

dil ki dhaDkan tham gai dard-e-nihaan baDhtaa gayaa

غزل · Ghazal

حال بیداری میں رہ کر بھی میں خوابوں میں رہا جیسے پیاسا کوئی اک عمر سرابوں میں رہا مری خوشبو سے معطر تھا گلستان وفا خار مانند مرا یار گلابوں میں رہا گفتگو تک رہی محدود ملاقات اپنی مرا محبوب شب وصل حجابوں میں رہا اب مجھے خاک نشینی کا شرف حاصل ہے یہ الگ بات ہے کل تک میں نوابوں میں رہا پیار ہی پیار تھا تحریر مرے خط میں مگر جز شکایت نہیں کچھ اس کے جوابوں میں رہا میں نے ہر حال میں پرواز کا سیکھا ہے ہنر کٹ گئے پر مرے پھر بھی میں عقابوں میں رہا عشق ثابت ہوا نقصان کا سودا عارفؔ صرف گھاٹا ہی محبت کے حسابوں میں رہا

haal-e-bedaari mein rah kar bhi main khvaabon mein rahaa

غزل · Ghazal

درد تھمتا ہی نہیں سینے میں آرام کے بعد ہم تو جلتے ہیں چراغوں کی طرح شام کے بعد بس یہی سوچ کے اکثر میں لرز جاتا ہوں جانے کیا ہوگا مرا حشر کے ہنگام کے بعد عشق کر بیٹھے مگر ہم نے یہ سوچا ہی نہیں خاک ہو جائیں گے ہم عشق کے انجام کے بعد لکھ کے کاغذ پہ ترا نام قلم توڑ دیا کوئی بھایا ہی نہیں مجھ کو ترے نام کے بعد غم کے سیلاب میں پھر بہہ گیا مسکن میرا چین پایا ہی تھا اک بارش آلام کے بعد مرے قاتل نے مری لاش پہ دم توڑ دیا وہ پشیماں تھا بہت قتل کے الزام کے بعد ہم نے سیکھا ہے ہنر فتح و ظفریابی کا عزم اپنا ہے جواں کوشش ناکام کے بعد سنگ ساری و ملامت ہوئے اب اپنے نصیب ہم تو برباد ہوئے کوچۂ اصنام کے بعد کیا خزاں آئی کہ برباد ہوا سارا چمن رہ گئی آہ و فغاں گلشن گلفام کے بعد

dard thamtaa hi nahin siine mein aaraam ke baa'd

غزل · Ghazal

ترے نزدیک آتا جا رہا ہوں وجود اپنا مٹاتا جا رہا ہوں مقدر آزماتا جا رہا ہوں میں تجھ سے دل لگاتا جا رہا ہوں زبانی تیر کھاتا جا رہا ہوں میں پھر بھی مسکراتا جا رہا ہوں تجھے پانے کی اک خواہش میں جاناں میں کتنے زخم کھاتا جا رہا ہوں اندھیروں سے بہت ڈرتا ہوں لیکن چراغوں کو بجھاتا جا رہا ہوں رکھے تھے راہ میں جو دوستوں نے میں سب پتھر ہٹاتا جا رہا ہوں لگا کر آگ اپنے ہی مکاں میں میں شعلوں کو بجھاتا جا رہا ہوں ازل کی سمت سے چل کر میں عارفؔ ابد کی سمت جاتا جا رہا ہوں

tire nazdik aataa jaa rahaa huun

غزل · Ghazal

میں نے مانا کہ ملاقات نہیں ہو سکتی تو کیا اب تم سے کوئی بات نہیں ہو سکتی دل میں روشن ہیں مری جاں تری یادوں کے چراغ شہر الفت میں کبھی رات نہیں ہو سکتی باطن قلب و جگر میں ہی بسا لے مجھ کو ظاہراً گر تو مرے ساتھ نہیں ہو سکتی اس کا شیوہ ہے محبت میں بغاوت کرنا معتبر اس کی کبھی ذات نہیں ہو سکتی عشق کا کھیل بھی یہ سوچ کے میں ہار گیا سچے عاشق کی کبھی مات نہیں ہو سکتی

main ne maanaa ki mulaaqaat nahin ho sakti

Similar Poets