
Mohammad Askari Arif
Mohammad Askari Arif
Mohammad Askari Arif
Ghazalغزل
غم ہائے روزگار سے فرصت نہیں مجھے میں کیسے کہہ دوں تم سے محبت نہیں مجھے اپنو کی سازشوں سے ہی مصروف جنگ ہوں غیروں سے دشمنی کی ضرورت نہیں مجھے دل میں ابھی چبھے ہیں وہ الفاظ تیر سے تو نے کہا تھا جب تری چاہت نہیں مجھے پنہاں ہیں کنج دل میں کئی درد لا دوا بے وجہ مسکرانے کی عادت نہیں مجھے سوغات زخم دل تو مقدر کی بات ہے اے یار تجھ سے کوئی شکایت نہیں مجھے تنہائیوں سے مجھ کو رفاقت سی ہو گئی عارفؔ سیاہ شب سے بھی وحشت نہیں مجھے
gham-haa-e-rozgaar se fursat nahin mujhe
دل کی دھڑکن تھم گئی درد نہاں بڑھتا گیا جل گئی ہستی مری لیکن دھواں بڑھتا گیا زندگی تو ہی بتا کس جا مجھے لے کر چلی اجنبی رستوں پہ آخر میں کہاں بڑھتا گیا دشت وحشت میں جلا کر ظلمتوں کی بستیاں روشنی کی سمت میرا کارواں بڑھتا گیا اپنی بربادی کا ذمے دار میں یا کوئی اور ذہن میں ہر وقت میرے یہ گماں بڑھتا گیا روح نے چھوڑا جو تنہا جسم کو وقت نزاع بعد پھر اس کے فراق جسم و جاں بڑھتا گیا طفل سے لے کر عدم تک زندگی کے ساتھ ساتھ سر پہ میرے بار امید گراں بڑھتا گیا زندگی اور موت کا یوں سلسلہ چلتا رہا تنگ تھا پچھلا جہاں اگلا جہاں بڑھتا گیا ہر قدم تھا ساتھ عارفؔ میرا نفس دائمی ابتدا سے انتہا تک میں جہاں بڑھتا گیا
dil ki dhaDkan tham gai dard-e-nihaan baDhtaa gayaa
حال بیداری میں رہ کر بھی میں خوابوں میں رہا جیسے پیاسا کوئی اک عمر سرابوں میں رہا مری خوشبو سے معطر تھا گلستان وفا خار مانند مرا یار گلابوں میں رہا گفتگو تک رہی محدود ملاقات اپنی مرا محبوب شب وصل حجابوں میں رہا اب مجھے خاک نشینی کا شرف حاصل ہے یہ الگ بات ہے کل تک میں نوابوں میں رہا پیار ہی پیار تھا تحریر مرے خط میں مگر جز شکایت نہیں کچھ اس کے جوابوں میں رہا میں نے ہر حال میں پرواز کا سیکھا ہے ہنر کٹ گئے پر مرے پھر بھی میں عقابوں میں رہا عشق ثابت ہوا نقصان کا سودا عارفؔ صرف گھاٹا ہی محبت کے حسابوں میں رہا
haal-e-bedaari mein rah kar bhi main khvaabon mein rahaa
درد تھمتا ہی نہیں سینے میں آرام کے بعد ہم تو جلتے ہیں چراغوں کی طرح شام کے بعد بس یہی سوچ کے اکثر میں لرز جاتا ہوں جانے کیا ہوگا مرا حشر کے ہنگام کے بعد عشق کر بیٹھے مگر ہم نے یہ سوچا ہی نہیں خاک ہو جائیں گے ہم عشق کے انجام کے بعد لکھ کے کاغذ پہ ترا نام قلم توڑ دیا کوئی بھایا ہی نہیں مجھ کو ترے نام کے بعد غم کے سیلاب میں پھر بہہ گیا مسکن میرا چین پایا ہی تھا اک بارش آلام کے بعد مرے قاتل نے مری لاش پہ دم توڑ دیا وہ پشیماں تھا بہت قتل کے الزام کے بعد ہم نے سیکھا ہے ہنر فتح و ظفریابی کا عزم اپنا ہے جواں کوشش ناکام کے بعد سنگ ساری و ملامت ہوئے اب اپنے نصیب ہم تو برباد ہوئے کوچۂ اصنام کے بعد کیا خزاں آئی کہ برباد ہوا سارا چمن رہ گئی آہ و فغاں گلشن گلفام کے بعد
dard thamtaa hi nahin siine mein aaraam ke baa'd
ترے نزدیک آتا جا رہا ہوں وجود اپنا مٹاتا جا رہا ہوں مقدر آزماتا جا رہا ہوں میں تجھ سے دل لگاتا جا رہا ہوں زبانی تیر کھاتا جا رہا ہوں میں پھر بھی مسکراتا جا رہا ہوں تجھے پانے کی اک خواہش میں جاناں میں کتنے زخم کھاتا جا رہا ہوں اندھیروں سے بہت ڈرتا ہوں لیکن چراغوں کو بجھاتا جا رہا ہوں رکھے تھے راہ میں جو دوستوں نے میں سب پتھر ہٹاتا جا رہا ہوں لگا کر آگ اپنے ہی مکاں میں میں شعلوں کو بجھاتا جا رہا ہوں ازل کی سمت سے چل کر میں عارفؔ ابد کی سمت جاتا جا رہا ہوں
tire nazdik aataa jaa rahaa huun
میں نے مانا کہ ملاقات نہیں ہو سکتی تو کیا اب تم سے کوئی بات نہیں ہو سکتی دل میں روشن ہیں مری جاں تری یادوں کے چراغ شہر الفت میں کبھی رات نہیں ہو سکتی باطن قلب و جگر میں ہی بسا لے مجھ کو ظاہراً گر تو مرے ساتھ نہیں ہو سکتی اس کا شیوہ ہے محبت میں بغاوت کرنا معتبر اس کی کبھی ذات نہیں ہو سکتی عشق کا کھیل بھی یہ سوچ کے میں ہار گیا سچے عاشق کی کبھی مات نہیں ہو سکتی
main ne maanaa ki mulaaqaat nahin ho sakti





