
Mohammad Aslam Khan Aslam
Mohammad Aslam Khan Aslam
Mohammad Aslam Khan Aslam
Ghazalغزل
خود اپنے عکس کو اپنی نظر میں کیا رکھنا کہ ہم نے چھوڑ دیا گھر میں آئنہ رکھنا کسی کے پیڑ کا سایہ نہ آ سکے گھر میں گھروں کے بیچ میں اتنا تو فاصلہ رکھنا تمام عمر ہی چاہے اڑان میں گزرے پرائی شاخ پہ ہرگز نہ گھونسلہ رکھنا مری نظر بھی اندھیروں سے اوب سکتی ہے کوئی چراغ تو یارو جلا ہوا رکھنا لو تم بھی شوق سے اسلمؔ سے احتیاط رکھو ہمیں بھی آ گیا اپنوں سے فاصلہ رکھنا
khud apne aks ko apni nazar mein kyaa rakhnaa
2 views
یہ گھر سجایا ہے تم نے جناب کس کے لیے یہ خار کس کے لیے ہیں گلاب کس کے لیے اگر ہے پیاس بجھانی تو جستجو بھی کرو بچا کے کس نے رکھی ہے شراب کس کے لیے کتاب زیست کو یکجا کروں تو کیسے کروں یہ باب کس کے لیے ہے وہ باب کس کے لیے جہاں میں کوئی بھی اہل نظر نہیں ملتا اگر کروں بھی تو چہرہ کتاب کس کے لیے سوال آج بھی یہ لا جواب ہے اسلمؔ ہوا ہے دل مرا خانہ خراب کس کے لیے
ye ghar sajaayaa hai tum ne janaab kis ke liye
1 views





