Mohammad Azeem
جو شخص سارے زمانے کا رنج سہتا تھا وہ آج راہ میں مثل غبار بیٹھا تھا یوں بت بنا وہ کھڑا تھا کہ کیا بتاؤں تمہیں میں اس کو چھونے سے پہلے خیال سمجھا تھا میں سو رہا تھا کہ وہ خواب مجھ پہ ٹوٹ پڑا میں کیسے بچ کے نکلتا کہ میں تو اندھا تھا ہزار نام تھے جو لوح دل پہ لکھے تھے مگر وہ نام کہ جیسے چراغ جلتا تھا برس رہا تھا قیامت کا ابر سر پہ مرے مگر یہ بات عجب تھی میں پھر بھی پیاسا تھا نہ اس نے مجھ سے کہا تھا کہ ٹھہرو رک جاؤ نہ سنگ سرخ کو میں نے پلٹ کے دیکھا تھا بلائے شہر مجھے ڈھونڈھتی تھی گلیوں میں میں اپنے آپ کو گھر میں چھپائے بیٹھا تھا ہوائے سرو نے پتھر چلائے تھے کیا کیا ہرا بھرا وہ شجر ایک پل میں ننگا تھا سبھی سے ملتا ہے لیکن وہ اب کسی کا نہیں عظیمؔ تم نے بھی دیکھا کہ وہ تمہارا تھا
jo shakhs saare zamaane kaa ranj sahtaa thaa