SHAWORDS
M

Mohammad Fahim

Mohammad Fahim

Mohammad Fahim

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

کانٹوں کو چوم لے نہ کوئی اضطراب میں رکھ دی ہے کس نے آپ کی خوشبو گلاب میں مہکا رہا ہے آج بھی میرے وجود کو رکھا تھا اک گلاب جو تو نے کتاب میں تھا کس کی آستین پہ مقتول کا لہو لکھا گیا ہے قتل یہ کس کے حساب میں پھرتا ہوں لاش کاندھوں پہ اپنی لئے ہوئے صدمے اٹھائے میں نے وہ عہد شباب میں پوچھا طبیب سے جو غم عشق کا علاج لکھا ہے اس نے عشق مکرر جواب میں پڑتی ہیں جس طرف یہ گراتی ہیں بجلیاں رکھیے نگاہیں اپنی خدارا نقاب میں دستک پہ ان کی رات اچانک میں چونک اٹھا پوچھا جو میں نے کون وہ بولے جناب میں شاید غم حیات کی تلخی مٹا سکیں پینے لگا ہوں اشک ملا کر شراب میں ہم راہ عشق بھی ہے غم زیست بھی فہیمؔ میں مبتلا ہوں ان دنوں دہرے عذاب میں

kaanTon ko chuum le na koi iztiraab mein

غزل · Ghazal

کسی کی آنکھ میں کیا ایک پل گزار آیا میں اپنی زیست کے رنج و الم اتار آیا وہ جس کے نام پہ ہم منزلیں فدا کرتے ہمیں وہ شخص کہیں راہ میں ہی مار آیا شب فراق سے کہہ ڈالے درد دنیا کے کہاں کا بوجھ تھا اور میں کہاں اتار آیا کہ میری تیرہ شبی میں کوئی چراغ جلے میں اس خیال سے راتیں کئی گزار آیا سو اب تو دھوکہ ہی کھانا مرا مقدر ہے یہ کس جگہ پہ مجھے لے کے اعتبار آیا مجال ترک تعلق نہ ہو سکی ورنہ خیال ترک تعلق تو بار بار آیا اداس کمرے کی وحشت کی خیر ہو یا رب ہم ایسے دشت نوردوں کو بھی قرار آیا میں ایک عمر سے اپنی مخالفت میں ہوں میں کیا کروں گا اگر اس طرف سے وار آیا ہم ایک صحن میں پل کر بڑے ہوئے ہیں فہیمؔ شجر پہ بور تو کاندھوں پہ میرے بار آیا

kisi ki aankh mein kyaa ek pal guzaar aaya

غزل · Ghazal

توڑ دیتے قسم چلے آتے تم نہ آتے تو ہم چلے آتے اپنی پلکیں بھی ہم بچھا دیتے تم اگر دو قدم چلے آتے کچھ تو دیتے صلہ وفاؤں کا کچھ تو رکھتے بھرم چلے آتے زخم دل کے پرانے بھرنے لگے لے کے تیر ستم چلے آتے آبلے ہیں یہ نارسائی کے درد ہوتا جو کم چلے آتے تم نے خود ہی صدا نہ دی ورنہ سر کے بل ہم صنم چلے آتے کھول دیتا جو دل کا دروازہ ساری دنیا کے غم چلے آتے چشم ساقی بلا رہی ہے فہیمؔ تم جو ہوتے بہم چلے آتے

toD dete qasam chale aate

غزل · Ghazal

جیتے ہیں تیرے پیار کی خیرات سے فقیر بیٹھے ہیں لو لگائے تری ذات سے فقیر تشنہ لبی نے پھر یہاں ڈیرے لگا لئے ہیں دل گرفتہ ہجر کے لمحات سے فقیر ہیں جان لیوا زیست کی یہ تلخیاں مگر روتے نہیں ہیں تنگیٔ حالات سے فقیر صورت بنا کے کانچ کی توڑا گیا کبھی مغلوب ہو گئے کبھی جذبات سے فقیر ظلم و ستم کی انتہا کیجے حضور آپ کندن بنیں گے درد کی سوغات سے فقیر امید کے چراغ جلاتے ہیں بام پر ڈرتے نہیں ہواؤں کے خدشات سے فقیر فرقت میں ایک عمر سے جلتے رہے مگر خوش ہو گئے بس ایک ملاقات سے فقیر جام و سبو و ساغر و مینا و میکدہ رہتے ہیں دور شہر خرافات سے فقیر وہ لوگ بھی فہیمؔ بڑے با کمال ہیں لڑتے ہیں صبح و شام جو صدمات سے فقیر

jiite hain tere pyaar ki khairaat se faqir

غزل · Ghazal

دل کی بے‌ چینیوں سے خطرہ ہے غم کی پرچھائیوں سے خطرہ ہے جل رہے ہیں دیے ہواؤں میں آگ کو پانیوں سے خطرہ ہے دور کر دیں گی ایک دن تجھ سے تیری من مانیوں سے خطرہ ہے رنج و آلام ساتھ رکھتا ہوں گھر کو ویرانیوں سے خطرہ ہے اس لئے آس پاس ہوں تیرے تیری تنہائیوں سے خطرہ ہے آرزو جستجو تمنا طلب ایسی بیماریوں سے خطرہ ہے دل کو مٹھی میں قید کر رکھئے اس کو آزادیوں سے خطرہ ہے دیکھ کر دل ہوا ہے دیوانہ تیری انگڑائیوں سے خطرہ ہے دل لگانے کا سوچتا ہوں مگر حشر سامانیوں سے خطرہ ہے دشت و صحرا ہیں اب ٹھکانہ فہیمؔ مجھ کو آبادیوں سے خطرہ ہے

dil ki be-chainiyon se khatra hai

غزل · Ghazal

پہلے صدمات کے دریا میں اتارا خود کو اور پھر بڑھ کے دیا میں نے سہارا خود کو بن سنور کر وہ چلا جاتا ہے لیکن گھنٹوں آئنہ دیکھتا رہتا ہے بیچارہ خود کو ڈوبنے والوں کو بڑھ کر یہ بچاتا کیوں نہیں اتنا بے بس کیوں سمجھتا ہے کنارا خود کو وہ مری ذات کا حصہ ہے چھپا ہے مجھ میں میں نے یہ سوچ کے ہر بار پکارا خود کو مجھ سے مل کر تری صورت نکھر آئی کتنی غور سے دیکھا نہیں تو نے دوبارا خود کو کتنے اسرار کھلے مہر و وفا کے مجھ پر آتش عشق سے جب میں نے گزارا خود کو اپنے جلووں سے کبھی اس نے نکھارا ہے مجھے لے کے انگڑائی کبھی اس نے سنوارا خود کو عادی اس نے جو بنایا ہے مجھے اپنا فہیمؔ میں بغیر اس کے نہیں کرتا گوارا خود کو

pahle sadmaat ke dariyaa mein utaaraa khud ko

Similar Poets