
Mohammad Faizullah Faiz
Mohammad Faizullah Faiz
Mohammad Faizullah Faiz
Ghazalغزل
بزم سے اپنی جو اس طرح اٹھا دیتے ہیں جانے کس جرم کی یہ لوگ سزا دیتے ہیں میں نے سوچا تھا ترا غم ہی مجھے کافی ہے لوگ آتے ہیں مجھے آ کے ہنسا دیتے ہیں غیر تو غیر ہیں اپنوں کی یہ حالت دیکھی جن پہ تکیہ کیا وہ لوگ دغا دیتے ہیں غم سے گھبرا کے کبھی لب پہ جو آتی ہے ہنسی وہ تصور میں مجھے آ کے رلا دیتے ہیں اہل دل کو تو یہی کہتے سنا ہے اے فیضؔ اپنے بیمار کو دامن کی ہوا دیتے ہیں
bazm se apni jo is tarah uThaa dete hain
جدھر دیکھیے ہے قیامت کی دنیا مصیبت ہے گویا محبت کی دنیا ترے حسن کی نور افشانیوں سے ہے معمور ہر دم محبت کی دنیا دل مضطرب ایسا ممکن کہاں ہے مسرت دکھائے محبت کی دنیا کبھی حسرتوں سے کبھی آفتوں سے ہے آباد ہر دم محبت کی دنیا نہ جا فیضؔ دنیا کی رنگینیوں پر سراسر ہے دھوکہ محبت کی دنیا
jidhar dekhiye hai qayaamat ki duniyaa





