
Mohammad Ghulam Nurani
Mohammad Ghulam Nurani
Mohammad Ghulam Nurani
Ghazalغزل
har ghaDi huun main pareshaan ranj-o-gham mein mubtalaa
ہر گھڑی ہوں میں پریشاں رنج و غم میں مبتلا ہائے یہ کس بے وفا کے ہوں بھرم میں مبتلا یار کی ترچھی نظر سے اک دفعہ جو پی گیا پھر ہوا نہ وہ کبھی بھی جام جم میں مبتلا پا گیا کوئی اسے خود کے ہی اندر جھانک کر عمر بھر کوئی رہا دیر و حرم میں مبتلا اس کی وہ پہلی نظر اور آخری میرا سفر کون ہے ایسا جو کر دے ایک دم میں مبتلا مل گئی ہے رہنمائی کو شعور آگہی ہو گیا ہے جب سے جوہرؔ میں سے ہم میں مبتلا
hai tum ko daa'vaa-e-mehr-o-vafaa to dard hogaa hi
ہے تم کو دعوائے مہر و وفا تو درد ہوگا ہی عبث ہی درد کا سودا کیا تو درد ہوگا ہی وہی چہرہ دکھایا آئنے نے جو تمہارا ہے ہے خود سے تو اگر ناآشنا تو درد ہوگا ہی مقدر ہے اٹل تو پھر دعا کی کیا ضرورت ہے کرو گے تم اسی پر اکتفا تو درد ہوگا ہی بہاروں کا لہو شامل ہے اس کی ضو فشانی میں کہ گل کھل کر اگر مرجھا گیا تو درد ہوگا ہی نظر کے سامنے جوہرؔ بڑی مشکل سے ہو منزل مگر بڑھنے لگے خود راستہ تو درد ہوگا ہی
mubaarak ho use jis ke liye sansaar hai sab kuchh
مبارک ہو اسے جس کے لیے سنسار ہے سب کچھ ہمارے واسطے تو بس ہمارا یار ہے سب کچھ کیا آدم کو سجدہ دیکھ کر کے جو فرشتوں نے وہ جو ظاہر ہے اندر اس کا ہی اظہار ہے سب کچھ نہ پوچھے ہم سے کوئی کہ ہماری اصلیت کیا ہے جو بے پردہ ہے پردے میں وہی کردار ہے سب کچھ لبوں پر آہ و زاری ہو رواں ہو اشک آنکھوں سے نہ ہو تر دامن احساس تو بے کار ہے سب کچھ یہ بزم عشق ہے پھرتے یہاں ہیں تاجور کتنے یہاں قیمت جنوں کی ہے دل بیمار ہے سب کچھ بدلتے ہیں نظارے ہر گھڑی جوہرؔ نگاہوں میں نظر ہو منتظر تو دیدۂ بے دار ہے سب کچھ
nazron mein kis hasin kaa chehra hai aaj-kal
نظروں میں کس حسین کا چہرہ ہے آج کل دل خود بخود ہی مائل سجدہ ہے آج کل ملتا نہیں کسی سے ہمارا مزاج اب گردش میں اپنے بخت کا تارا ہے آج کل اک مشت خاک میں ہے نہاں راز کن فکاں قطرہ بھی اپنے آپ میں دریا ہے آج کل واعظ ڈرا رہا ہے ہمیں وہ بھی دار سے قاتل ہی کا ہمیں تو سہارا ہے آج کل دکھتا ہے ہر کسی کو مگر دیکھتا نہیں جس کو بھی دیکھیے وہی اندھا ہے آج کل لیلیٰ و قیس کی کوئی کیوں داستاں سنے جوہرؔ کے شور عشق کا چرچا ہے آج کل
makin hai khaana-e-dil mein vo laa-makaan ho kar
مکیں ہے خانۂ دل میں وہ لا مکاں ہو کر نشاں وہ رکھتا ہے ہر جز میں بے نشاں ہو کر کبھی وہ پھول بنے باغ کے کبھی خوشبو رہے عیاں وہ کبھی تو کبھی نہاں ہو کر کسی نے آہ نہ کی اور سنی گئی اس کی مرے یہ اشک برستے رہے رواں ہو کر نہیں یقین مجھے اب تمہارا اے قاصد خبر رقیب کو آیا ہے اور ہاں ہو کر نگاہ یار کا جادو ہے اور کچھ بھی نہیں الجھ پڑا ہوں میں ساقی سے بد گماں ہو کر تمہاری آنکھ پہ افسوس کیوں نہ ہو جوہرؔ اسے نہ دیکھ سکا اس کے درمیاں ہو کر
ghaur se jab khud ko dekhaa hosh kho baiThaa koi
غور سے جب خود کو دیکھا ہوش کھو بیٹھا کوئی آئنے کے سامنے تھا اجنبی چہرہ کوئی اب تو ہر چہرہ نظر میں قابل دیدار ہے ہے عیاں ہر صورت انفاس میں جلوہ کوئی دو جہاں کی نعمتیں فرزند آدم کے لیے اب فقط کیونکر کرے فردوس کا دعویٰ کوئی واسطے اپنے یہ دنیا حشر کا میدان ہے ہے یہیں پر کوئی مالک اور ہے بندہ کوئی





