SHAWORDS
M

Mohammad Habeeb Habeeb

Mohammad Habeeb Habeeb

Mohammad Habeeb Habeeb

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

aap kaa dil is tarah kyunkar huaa

آپ کا دل اس طرح کیونکر ہوا موم تھا کل آج کیوں پتھر ہوا سوچئے تو یہ بھی کوئی بات ہے پوچھتے ہیں حال کیوں ابتر ہوا آنکھ سے جو کرب کا قطرہ گرا ایک بیوہ کے لئے گوہر ہوا پرورش تو اس کی کی تھی ناز سے مل گئی دلہن تو وہ باہر ہوا آج مہنگائی نے بے بس کر دیا میہماں آئے کہ درد سر ہوا موت کا اس دم مجھے آیا یقیں جب اندھیرا قبر کے اندر ہوا نیکیاں میری انہوں نے چھین لیں اور میں رسوا سر محشر ہوا اہل یورپ کہہ رہے ہیں فخر سے دل منور دین میں آکر ہوا لوٹ کر کہتے ہیں وہ کس شان سے جو بھی ہونا تھا ہوا بہتر ہوا روح نکلے سبز گنبد کے قریب ہند میں جینا بھی مشکل تر ہوا کچھ تو وسعت ہو گئی حاصل حبیبؔ پاؤں پھیلانے کو اپنا گھر ہوا

غزل · Ghazal

qalil aap nahin aur ham kasir nahin

قلیل آپ نہیں اور ہم کثیر نہیں حقوق سب کے ہیں یکساں کوئی حقیر نہیں جو وقت آئے تو میرا بھی امتحاں لے لو وفا شعار ہوں مردہ مرا ضمیر نہیں پڑے جو وقت تو فولاد سے بھی ٹکرائے مرا وجود فقط خاک کا خمیر نہیں مرے وجود سے نفرت تمہیں ہے کیا معنی بہت اہم ہوں تمہارے لئے حقیر نہیں بھری بہار میں منظر خزاں کا لگتا ہے چمن میں پھول قفس میں کوئی اسیر نہیں دراز کوئی بھی کرتا نہیں ہے دست طلب ہمارے شہر میں شاید کوئی فقیر نہیں کہیں وہ اپنی ڈگر سے بھٹک نہ جائے حبیبؔ رہ طلب کی جماعت کا جب امیر نہیں

غزل · Ghazal

un ki khvaahish aur hai apni tamanna aur hai

ان کی خواہش اور ہے اپنی تمنا اور ہے آنکھ سے ظاہر ہے کچھ دل کا تقاضہ اور ہے خوب ہیں کیا خوب ہیں اہل سیاست واہ واہ دل میں ان کے بغض ہے لیکن دکھاوا اور ہے دسترس میں اپنی رکھتا ہے وہ طوفان حسد ہم ابھرتے ہیں تو وہ ہم کو دباتا اور ہے تو کہ غدار چمن ہے میں وفادار چمن میرا مقصد اور ہے تیرا ارادہ اور ہے دیکھنا ہے تیر لگتا ہے کہ ہوتا ہے خطا رخ کماں کا اس طرف لیکن نشانہ اور ہے احتراماً ہر کوئی سر پر بٹھاتا تھا ہمیں وہ زمانہ اور تھا اب یہ زمانہ اور ہے اس تضاد دل نشیں کو کچھ سمجھتے ہیں ہمیں دل ملاتا اور ہے آنکھیں دکھاتا اور ہے دیکھ صورت کو مری حیرت ہے کہتا ہے حبیبؔ وہ تو ایسا تھا نہیں یہ کوئی لگتا اور ہے

غزل · Ghazal

har guzartaa pal nayaa ik masala detaa gayaa

ہر گزرتا پل نیا اک مسئلہ دیتا گیا ہر گزرتا دن نئے غم کا پتہ دیتا گیا تپتے صحرا سے تمنا چھاؤں کی بے سود تھی ہم کہ چلتے ہی گئے وہ آبلہ دیتا گیا دشت فرقت جان لیوا ہو گیا اس دم مجھے اک تصور آپ کا بس حوصلہ دیتا گیا مبتلائے گردش حالات میں جب جب ہوا مجھ کو سایہ اپنی رحمت کا خدا دیتا گیا بس یہ اعجاز محبت تھا کہ میری قبر پر سنگ دل سے سنگ دل بھی فاتحہ دیتا گیا وصف فن شاعری ملتا گیا جوں جوں مجھے میں بھی تھا فیاض بس لیتا گیا دیتا گیا اللہ اللہ نزع کا عالم تھا لیکن وہ حبیبؔ جاتے جاتے مجھ کو جینے کی دعا دیتا گیا

غزل · Ghazal

ham ko dars-e-ulfat-o-mehr-o-vafaa dete hue

ہم کو درس الفت و مہر و وفا دیتے ہوئے خود کو پرکھا آپ نے یہ مشورہ دیتے ہوئے ہے بہت بیزار اپنی زندگی سے وہ مگر جا رہا ہے سب کو جینے کی دعا دیتے ہوئے فیصلہ اک ہے گنہ کا جب کیا اس نے غلط کانپ اٹھا ہاتھ منصف کا سزا دیتے ہوئے پرورش ہوتی ہے بچے کی یہ اس کی شان ہے کس نے دیکھا بطن‌ مادر میں غذا دیتے ہوئے چیر کر دریا کا سینہ بے خطر اترے ہیں پار حادثے گزرے ہیں ہم کو راستہ دیتے ہوئے باپ کے آنسو نہ تھمتے تھے عجب منظر تھا وہ قبر پر بیٹے کی اپنے فاتحہ دیتے ہوئے ہل نہیں سکتے یہاں سے چاہے مدفن ہی بنے ہم نہیں وہ جو چلے جائیں صدا دیتے ہوئے میں کہ ششدر رہ گیا ساقی کی حرکت دیکھ کر جام لایا اور آگے بڑھ گیا دیتے ہوئے جب تمہیں فرصت ملے تو شوق سے آؤ حبیبؔ ہنستے ہنستے کہہ دیا اس نے پتہ دیتے ہوئے

غزل · Ghazal

dil se dil hi na mile jab to bane baat hi kyaa

دل سے دل ہی نہ ملے جب تو بنے بات ہی کیا اک نیا رنگ نہ ابھرے تو ملاقات ہی کیا زندگی زندہ ہو رخشندہ و پایندہ بھی ہو چند سانسوں سے ملی جان کی سوغات ہی کیا اپنے اسلاف کے احسان بھلا کر ان کو بعد از مرگ دیے بھی تو خطابات ہی کیا کم سے کم دیجئے اک بار تو موقع ہم کو پھول صحرا میں نہ کھل جائیں تو پھر بات ہی کیا خون دل دے کے کیا ان کے چمن کو شاداب پھر بھی کہتے ہیں ہمیں آپ کی اوقات ہی کیا حرص کی آگ میں دلہن کو جلا دیتے ہیں ایسے جلادوں کی اوقات ہی کیا ذات ہی کیا اف یہ برسات کہ بہہ جائیں غریبوں کے مکاں خون رلوائے جو برسات وہ برسات ہی کیا قلب پر نقش نہ بن کر جو ابھر آئیں حبیبؔ ایسے اشعار ہی کیا ایسے خیالات ہی کیا

Similar Poets