SHAWORDS
M

Mohammad Haneef Shabab

Mohammad Haneef Shabab

Mohammad Haneef Shabab

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

ہجر ساعت کی داستاں ہیں ہم وہ زمیں ہے تو آسماں ہیں ہم آ پرکھ لے ہمیں تو اے دنیا آج حاصل ہیں کل کہاں ہیں ہم درد قصے ہیں اپنی غزلوں میں لوگ سمجھے ہیں نغمہ خواں ہیں ہم تیرے نقشے میں رنگ کیا بھرتے اب تو خود سے بھی بد گماں ہیں ہم آج ساحل پہ دھجیاں بولیں کل کی کشتی کے بادباں ہیں ہم آگ موسم ہے اپنی آنکھوں میں برف وادی کے حکمراں ہیں ہم اپنی خوشبو ہمیں نہیں ملتی ویسے کہنے کو گلستاں ہیں ہم ہم نے پانی ہے ندرت احساس میر و غالب کے درمیاں ہیں ہم گھر بسا کر بھی غم زدہ ہے وہ گھر لٹا کر بھی شادماں ہیں ہم

hijr-saaat ki daastaan hain ham

غزل · Ghazal

شعلۂ ذوق نمو برفاب لکھ کشتئ دل ہو گئی غرقاب لکھ زندگی پیمانۂ زہراب لکھ اور یہ ہے تحفۂ احباب لکھ میری راتیں رنج فرقت سوز دل اس کی شب میں اک سنہرا خواب لکھ اس کا رتبہ کب سمجھ میں آ سکا یاد جتنے ہوں سبھی القاب لکھ کہہ نہیں سکتا کبھی میں اے ندیمؔ جابروں کو بھی مرا آداب لکھ یہ منادی ہے غنیم وقت کی رت خزاں کی ہے مگر شادابؔ لکھ یہ بھی فتویٰ ہے فقیہ شہر کا جبر کے سورج کو تو مہتاب لکھ

shoala-e-zauq-e-numu barfaab likh

غزل · Ghazal

زندگی سے جو واسطہ رکھئے مر کے جینے کا حوصلہ رکھئے ملنے جلنے کا سلسلہ رکھئے یوں نہ اپنوں سے فاصلہ رکھئے اس کے در تک فقط جو لے جائے ایک ایسا بھی راستہ رکھئے شہر دل کے ہمیں ہیں شہزادے کچھ تو ہم سے بھی رابطہ رکھئے وصل کی آس تو ہے نازک شے جیسے پانی کا بلبلہ رکھئے دل کی دھڑکن سے مات کھانی ہے یار لوگوں سے کیا گلہ رکھئے حق پرستی کے ساتھ نظروں میں کربلا کا بھی معرکہ رکھئے

zindagi se jo vaasta rakhiye

غزل · Ghazal

چاہے وہم و گمان میں رکھنا مجھ کو تو اپنے دھیان میں رکھنا ناز کرتا ہو آسماں جس پر شان ایسی اڑان میں رکھنا خواب آنکھوں میں پالنا لیکن جان اپنی لگان میں رکھنا تجھ سے کس نے کہا تھا شیشہ گر کوئی پتھر دکان میں رکھنا ہم تو بدلیں گے رخ ہواؤں کا آپ خود کو ڈھلان میں رکھنا نیم کا پیڑ دل میں ہو لیکن شہد اپنی زبان میں رکھنا

chaahe vahm-o-gumaan mein rakhnaa

غزل · Ghazal

خواب جتنے تھے سب کنوارے تھے وہ جو اپنے تھے کب ہمارے تھے اشک کہنا تو نا سپاسی ہے شام کے ساتھ کچھ ستارے تھے ہم تو طوفاں سے بچ کے آئے ہیں مرنے والے مگر کنارے تھے تم بھی مقتل میں آ گئے تم تو حاکم وقت کے دلارے تھے

khvaab jitne the sab kunvaare the

غزل · Ghazal

واقعہ ہوں نہ حادثہ ہوں میں تم جو سمجھو تو معجزہ ہوں میں میں ہوں بازار عشق کا یوسف آج بے مول بک گیا ہوں میں خود کو ڈھونڈو مری تجلی میں عہد ماضی کا آئینہ ہوں میں قطرہ قطرہ بکھیر دے مجھ کو ایسے طوفان میں گھرا ہوں میں رہنمائی کی کب رہی حاجت اپنی منزل کا خود پتہ ہوں میں مجھ کو دار و رسن سے ہے نسبت یہ بھی سچ ہے کہ بے خطا ہوں میں

vaaqia huun na haadisa huun main

Similar Poets