
Mohammad Hasnan Shah
Mohammad Hasnan Shah
Mohammad Hasnan Shah
Ghazalغزل
وسعت میں تو خیال سا حرف جہاں نہیں ہوتا ہے ایسا بھی کہ جو ہوتا بیاں نہیں آساں اگر جو کہیے تو ہوتا نہیں عیاں مشکل کہیں تو پھر کوئی سمجھے یہاں نہیں آساں بھی تیرے سر سے گزر جائے ہے کبھی ذوق طلب جو ہو تو گراں بھی گراں نہیں عالم تمام ہو تو سکے ہے فقط خیال بس اک وجود ہستی میں ظن و گماں نہیں ہر بار ضد میں گردش دوراں ہی آ گئی غارت ہوئے وہاں بھی جہاں تھا زیاں نہیں حسنانؔ اس جہاں کو تو آئے نہ آئے راس آیا ہے تجھ کو راس مگر یہ جہاں نہیں
vus'at mein to khayaal saa harf-e-jahaan nahin
مری سن کے تم کو جو لگتی سزا تو پھر چپ رہو یا کرو دل بڑا یہاں حق کا ہے ساتھ مشکل بہت گراں سچ کے کہنے سے سننا رہا اکیلا ہوا سچ کے کہنے سے میں کہوں تو غلط چپ رہوں تو برا عجب کھیل دنیا کا دیکھا بہت وفا پر بھی دھوکا دغا پر دغا فریب اس کے زینت میں لپٹے ہوئے بھیانک حقیقت مزین عبا کرے فیصلہ یہ کوئی غیر کیوں مرا کفر جانے ہے میرا خدا کسی سمت سے کچھ دکھائی نہ دے تو ہر پہلو سے تو اسے تکتا جا فقط قادر کل پہ ہے انحصار وہی کر سکے شوق اپنے روا تو حق کی ہی بس فکر حسنانؔ کر یہاں کوئی خوش ہے تو کوئی خفا
miri sun ke tum ko jo lagti sazaa
موجود سب فریب ہے ہستی کے جال میں ہے محض اک خیال خیال خیال میں سو بار یوں لگا ہے کہ بیتا ہوا ہے سب شاید گزر رہا ہے کوئی ماضی حال میں حالات سازگار میسر نہ ہوں تو پھر ہے جوہر کمال بھی باب زوال میں اک زندگی گزار دی بے کار جو اگر باقی تو اب گزار نہ اس کے ملال میں واقع ہے یا خیال ہے مشہود سب یہاں یا وحدۃ الوجود ہے پنہاں جمال میں دھوکا نگاہ پر ہے مزین کیا ہوا لمحہ ہے یہ فقط جو ہے جاہ و جلال میں ہم ہیں کہ اس جہاں سے بہت کچھ چھپائے ہیں یونہی نہیں ہے اپنا کلیجہ ابال میں جب ہے خدا تو پھر کوئی حسنانؔ غم نہیں اک راحت دوام ہے پنہاں وصال میں
maujud sab fareb hai hasti ke jaal mein





