SHAWORDS
Mohammad Iftikharul Haq Samaj

Mohammad Iftikharul Haq Samaj

Mohammad Iftikharul Haq Samaj

Mohammad Iftikharul Haq Samaj

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

kohsaar-e-hunar mujh se abhi sar na huaa thaa

کہسار ہنر مجھ سے ابھی سر نہ ہوا تھا میں چاک گریباں کا رفو گر نہ ہوا تھا دیوار کی تحریر نے کوشش تو بہت کی آموختہ اکثر مجھے ازبر نہ ہوا تھا دنیا کے لیے مجھ میں کشش کس لیے ہوتی گردش میں رہا میں کبھی محور نہ ہوا تھا معلوم اسے خوب تھے اک سر کے مصارف دیوار بنا شخص کبھی در نہ ہوا تھا اس کے تو مکاں جیسے خد و خال نہیں تھے جب تک کہ یہی دشت مرا گھر نہ ہوا تھا داروغۂ غم خوب نظر رکھتے تھے لیکن اک سانحہ اس دل پہ مقرر نہ ہوا تھا ہر نیند کے پہلو میں کئی پھول تھے لیکن تعبیر سے ہر خواب معطر نہ ہوا تھا اس بار ستاروں نے بھی عطیات دئے تھے اس بار مگر چاند منور نہ ہوا تھا

غزل · Ghazal

saahil ki himaayat mein jazire nikal aae

ساحل کی حمایت میں جزیرے نکل آئے پانی سے بغاوت کے وسیلے نکل آئے جب ماند پڑیں یاد کے سورج کی شعاعیں نسیاں کی خلاؤں میں ستارے نکل آئے طے ہو گئی تعبیر سے جب ان کی سگائی خوابوں سے مرے اور بھی رشتے نکل آئے کس نیند سے جاگا ہوں کہ ہر جیب سے میری فردا میں چھپائے ہوئے سکے نکل آئے پیراہن الفاظ بدلنے کے عمل میں کچھ معنی لکیروں کے بدن سے نکل آئے ڈالا جو کبھی دھوپ کے سانچے میں بدن کو کامل مجھے کرنے کئی سائے نکل آئے کھولا جو خلش نے کبھی صندوق جدائی امکاں سے لکھے وصل کے نسخے نکل آئے لیٹا تھا میں اک دشت تیقن میں اکیلا ایڑی بھی نہ رگڑی تھی کہ چشمے نکل آئے یوں ضبط کی مٹھی سے بکھرتے گئے دانے ہر گنبد خواہش سے پرندے نکل آئے

غزل · Ghazal

diye andheron ne baDh kar sahaare khvaabon ko

دئے اندھیروں نے بڑھ کر سہارے خوابوں کو صراط شب سے گزرتے ہمارے خوابوں کو کچھ اور بوجھ اٹھانا بھی ان کے ذمے ہے کوئی تو آنکھوں کے سر سے اتارے خوابوں کو چلا گیا ہے جو نیندیں بکھیر کر میری بلاؤں کیسے کہ آ کر سنوارے خوابوں کو کہیں خلائے عدم میں ظہور نور ہوا دکھائی دینے لگے ہیں نظارے خوابوں کو کہیں جزیرۂ امکاں کہیں پہ تعبیریں بلا رہے ہیں بہت سے کنارے خوابوں کو چھڑا کے ہاتھ ہوئے رتجگوں میں گم ایسے تلاش کرتے ہیں اب استخارے خوابوں کو مزاج اس نے بگاڑا ہے عمر بھر ان کا سو اب یہ وقت کی مرضی سدھارے خوابوں کو

غزل · Ghazal

kuchh the mere haathon mein kuchh muqim siine mein

کچھ تھے میرے ہاتھوں میں کچھ مقیم سینے میں اب سوار ہیں سارے اجنبی سفینے میں کرب سے ہوئے صیقل عکس کر گئے مہمل آرزو کے آئینے آس کے خزینے میں کوئی ایک لمحہ ہے جس میں دن سما جائیں سال ڈوب سکتے ہیں صرف اک مہینے میں آرزو کی حدت سے برف تشنگی پگھلی عمر گھل گئی لیکن چند گھونٹ پینے میں ہاتھ جب اٹھاتے ہیں ان کے بت نہیں گرتے منفرد منافق ہیں زیست کے مدینے میں پیشہ ور مہارت سے اجتناب برتا ہے سوزن مقدر نے میرے زخم سینے میں ان کو مے تخیل کی راس جب بھی آ جائے لفظ رقص کرتے ہیں دل کے آبگینے میں

غزل · Ghazal

kyaa yaadgaar dil pe lagaai kharaash hai

کیا یادگار دل پہ لگائی خراش ہے جراح کم ہنر مجھے تیری تلاش ہے صیقل گر زماں تو ذرا معجزہ دکھا یادوں کے آئنے میں کوئی پاش پاش ہے ماضی کی سرحدوں سے پرے جا کے ایک دن پوچھوں گا اپنے آپ سے کیا بود و باش ہے کیا کیجئے گا پڑھ کے مری خود نوشت کو لکھا ورق ورق پہ اگر اور کاش ہے اس کشمکش میں رہتے ہیں فکر و قلم صدا رکھنا بھی راز ہے اسے کرنا بھی فاش ہے بے روزگار ہجر کے تاجر نے کر دیا مزدور وصل ہوں سو تلاش معاش ہے قاب جہاں پہ رکھے پھلوں نے مجھے کہا مہمان تیرے حصے میں اک آدھ قاش ہے

غزل · Ghazal

pahle mujhe nisaab se ghaafil kiyaa gayaa

پہلے مجھے نصاب سے غافل کیا گیا پھر امتحاں کے واسطے قائل کیا گیا ساری سپاہ دوسری جانب چلی گئی مجھ کو جو میرے مد مقابل کیا گیا پھر خواہشوں کو دل کی سفارش پہ ایک دن خوابوں کی خانقاہ میں داخل کیا گیا کچھ کشتیوں نے مل کے جزیرے بنا لیے دریا جو ساحلوں کے مماثل کیا گیا آئندہ مرحبوں سے الجھنا نہیں کبھی خیبر سے کیا سبق یہی حاصل کیا گیا شوق سفر کے اذن جنوں سے ملاپ پر کتنے ہی راستوں کو منازل کیا گیا تفسیر متن خوف کی لکھی نہ جا سکی وحشت بھرا صحیفہ جو نازل کیا گیا ریگ طلب کو سطح قناعت پہ ڈال کر دریائے ممکنات کا ساحل کیا گیا لفظوں کی شکل خون بہے گا تمام عمر میں تیز دھار وقت سے گھائل کیا گیا

Similar Poets