SHAWORDS
Mohammad Ishtiyaaq Aalam

Mohammad Ishtiyaaq Aalam

Mohammad Ishtiyaaq Aalam

Mohammad Ishtiyaaq Aalam

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

sang-dil zamaane ko kaise koi samjhaae kaise jiite marte hain vo jo ishq karte hain

سنگ دل زمانے کو کیسے کوئی سمجھائے کیسے جیتے مرتے ہیں وہ جو عشق کرتے ہیں درد و غم کے گھیرے میں ہر گھڑی اکیلے میں ٹوٹتے بکھرتے ہیں وہ جو عشق کرتے ہیں عمر کاٹ دیتے ہیں خود کو آزمانے میں بات یہ حقیقت ہے آج بھی زمانے میں بار غم اٹھاتے ہیں زخم دل پہ کھاتے ہیں اور آہ بھرتے ہیں وہ جو عشق کرتے ہیں جبر کے کنارے سے صبر کے جزیرے تک ہر قدم قیامت ہے پھر بھی ان کی ہمت ہے تھام کر جگر اپنا غم کے اس سمندر میں ڈوبتے ابھرتے ہیں وہ جو عشق کرتے ہیں عشق ہے خدا جن کا عشق ہی عبادت ہے عشق جن کی دنیا ہے عشق جن کی جنت ہے ایسے لوگ دنیا میں خوف کس سے کھاتے ہیں کب کسی سے ڈرتے ہیں وہ جو عشق کرتے ہیں کھوئے کھوئے رہتے ہیں اپنی داستان دل کب کسی سے کہتے ہیں دیکھو ایسے جیتے ہیں بھول کر زمانے کو ہر گھڑی تصور کی جھیل میں اترتے ہیں وہ جو عشق کرتے ہیں تبصروں میں رہتے ہیں تذکروں میں رہتے ہیں عشق کے فسانوں میں ہیں یہ داستانوں میں پتھروں کی بستی سے لے کے دل کا آئینہ شان سے گزرتے ہیں وہ جو عشق کرتے ہیں عشق کرنے والوں کی بات ہی نرالی ہے عشق کرنے والوں کی شان ہی عجب ہے کچھ جتنے غم اٹھاتے ہیں جتنے اشک پیتے ہیں اتنے ہی نکھرتے ہیں وہ جو عشق کرتے ہیں تم تو اپنے وعدوں کو یوں ہی توڑ دیتے ہو تم تو اپنی قسموں کو پل میں بھول جاتے ہو واقعی جو عاشق ہیں اپنے عہد و پیماں سے کب بھلا مکرتے ہیں وہ جو عشق کرتے ہیں

غزل · Ghazal

haqiqaton ko jo kar rahe hain raqam lahu se range hue hain

حقیقتوں کو جو کر رہے ہیں رقم لہو سے رنگے ہوئے ہیں لہو سے تحریر تر بہ تر ہے قلم لہو سے رنگے ہوئے ہیں محبتوں کا وہ قافلہ جو وفا کے پرچم لئے ہوئے تھا وہ ہے نشانے پہ قاتلوں کے علم لہو سے رنگے ہوئے ہیں محافظوں کے حوالے کر کے مکان اپنا جو سو رہے تھے وہ لٹ گئے ہیں وہ رو رہے ہیں حرم لہو سے رنگے ہوئے ہیں قبیلے والوں کو کیا ہوا ہے سمجھ رہے ہیں اسی کو قائد قیادتوں کے جنوں میں جس کے قدم لہو سے رنگے ہوئے ہیں جو مہرباں تھے جو ملتفت تھے کرم نوازی تھی عام جن کی کریم جو تھے جو کر رہے تھے کرم لہو سے رنگے ہوئے ہیں بدن کے زخموں کو کیا گنیں ہم گلہ کریں کیا بتاؤ تم سے یہ سب تمہاری عنایتیں ہیں جو ہم لہو سے رنگے ہوئے ہیں صحافتوں کا سفر بھی عالم بڑا ہی مشکل بھرا سفر ہے لہو میں بھیگے ہوئے ہیں کاغذ قلم لہو سے رنگے ہوئے ہیں

غزل · Ghazal

halki si bhi kaanon mein sadaa tak nahin aati

ہلکی سی بھی کانوں میں صدا تک نہیں آتی گلزار میں اب باد صبا تک نہیں آتی سب بھول گئی جیسے سبق شرم و حیا کے اب سر پہ نظر اس کے ردا تک نہیں آتی کچھ ایسی خفا مجھ سے مری جان ہوئی ہے اب حال مرا کرنے پتہ تک نہیں آتی میں اس کو مناؤں بھی تو کس طرح مناؤں بتلانے مجھے میری خطا تک نہیں آتی تسلیم تجھے کیسے وفادار میں کر لوں لہجے سے ترے بوئے وفا تک نہیں آتی ہر کھڑکی تعلق کی مقفل ہے ابھی تو کمرے میں محبت کی ہوا تک نہیں آتی ہیں ہوش میں پی کر تری مستانہ نظر سے رندوں کو بہکنے کی ادا تک نہیں آتی کیوں اس سے ہے امید وفا آپ کو عالمؔ جب کرنی اسے مشق جفا تک نہیں آتی

غزل · Ghazal

dilon ke darmiyaan be-baat fitna Daal dete hain

دلوں کے درمیاں بے بات فتنہ ڈال دیتے ہیں یہ کیسے لوگ ہیں اپنوں میں جھگڑا ڈال دیتے ہیں تمہیں کچھ بھوک کا احساس انساں کی نہیں لیکن پرندوں کے لئے ہم چھت پہ دانہ ڈال دیتے ہیں میں اس دھرتی کا واسی ہوں جہاں چیلے قلم کر کے گرو کے چرنوں میں اپنا انگوٹھا ڈال دیتے ہیں یقیناً لطف ہے کوئی تو ساون کے مہینے میں خبر ساون کی سن کر لوگ جھولا ڈال دیتے ہیں چٹانیں کاٹ کر وہ راستہ کیسے بنائیں گے جو تھک کر راہ میں ہاتھوں سے تیشہ ڈال دیتے ہیں کسی کی بد نظر کے وہ اثر میں آ نہیں سکتے جو اپنے گھر کے دروازے پہ پردہ ڈال دیتے ہیں انہیں عالمؔ کسی صورت میں منزل مل نہیں سکتی فقط دو گام چل کر ہی جو ڈیرا ڈال دیتے ہیں

Similar Poets