
Mohammad Munzir Raza
Mohammad Munzir Raza
Mohammad Munzir Raza
Ghazalغزل
aazaad jahaan se ho gae hain
آزاد جہاں سے ہو گئے ہیں زیبائی میں اس کی کھو گئے ہیں پھر رہ نہ سکے صبا کے چلتے پھر گل کی باس کو گئے ہیں اب سلسلہ دیکھنا نمو کا ہم باغ میں اشک بو گئے ہیں آنے والوں سے کیا بتائیں تھے کتنے عزیز جو گئے ہیں چاہیں بھی تو بزم میں نہ رو پائیں تنہائی میں اتنا رو گئے ہیں بس ہم رہے نسبتوں میں گڑ کر آزاد تھے لوگ سو گئے ہیں اس گل کے نفس کہ تھے نسیمی پتوں سے غبار دھو گئے ہیں
ik karb se vo navaaz rakkhe
اک کرب سے وہ نواز رکھے جگ سے مجھے بے نیاز رکھے آموختۂ جمال ہے دل در شکل نیاز ناز رکھے ہر شخص کی چشم دیدنی تھی ہاتھوں سے جب اس نے ساز رکھے پاؤں کے تلے رہیں شہاں بھی سولی مجھے سرفراز رکھے ہر سمت مکالمات بازار کیوں ساتھ کوئی بیاض رکھے کیا باغ کہ ہو سراب جس میں کیا حسن جو کچھ مجاز رکھے خس تھے پہ قدم میں سرو کے تھے سو کچھ تو صبا لحاظ رکھے خوشبو میں سخن کرے ہے وہ گل کیسے کوئی اس کا راز رکھے
juz dast-e-lutf kuchh na chaahein
جز دست لطف کچھ نہ چاہیں سہمی ہوئی ملتجی نگاہیں گلدان میں تازہ پھول دیکھے دو چند ہوئیں ہماری آہیں ہیں خلوت بے کسی میں گریاں سن کر تہذیب کی کراہیں چلنا تھا بچھڑ کے بھی بہت کچھ تم کٹ گئے پر کٹی نہ راہیں پتے تھے بچھڑ کے موت ہی تھی جاں دینے پہ لوگ کیوں سراہیں ہم بھول گئے ہیں چشم بستن دیکھی تھیں تری کشادہ بانہیں سہہ خنجر خندہ تیر طعنہ اپنی اقدار سے نباہیں
aahon ke koi Dhab hain na rone ke qarine
آہوں کے کوئی ڈھب ہیں نہ رونے کے قرینے فرقت کو بڑھایا ہے مری کم ہنری نے مقصود پہ ہیں پیش رقیبان پریدہ کیا اڑنا سکھایا ہمیں بے بال و پری نے طائر وہیں بستے ہیں جہاں سنگ نہ آئیں آباد رکھا مجھ کو مری بے ثمری نے ہوں بھی کہ نہیں ہوں اور اگر ہوں بھی تو کیا ہوں تشویش میں رکھا ہے تری خود نگری نے محفل میں گھٹن ہوتی ہے تنہائی میں وحشت رکھا نہ کہیں کا مجھے خستہ جگری نے
sukhan-aabaad ki tanhaai mein jaa rahne kaa
سخن آباد کی تنہائی میں جا رہنے کا ہم کو ڈھب آتا ہے پاداش ہنر سہنے کا آپ کی چشم میں کوئی قمر آئے تو آئے رشک خورشید ہوں سو میں تو نہیں گہنے کا منت لفظ و زباں کیونکہ اٹھائی جائے چشم خوش کار کو معلوم ہے ڈھب کہنے کا ایک جائے تو چلی آئے دگر موج کمال دیدنی بسکہ ہے نظارہ مرے بہنے کا بس میں ہر ناکس و کس کے نہیں میری تعمیر کچھ زیادہ نہ ہو نقصان مرے ڈھہنے کا





