Mohammad Nasim Qureshi
تمہارے ساتھ کئی رابطے نظر آئے غموں کے دور تلک سلسلے نظر آئے گرا تھا ذہن کے دریا میں سوچ کر کنکر پھر اس کے بعد کئی دائرے نظر آئے جہاں جہاں پہ توقع تھی منزلوں کی ہمیں وہاں وہاں پہ نئے راستے نظر آئے ہر ایک سمت مناظر تھے شہر ماضی کے جدھر نگاہ اٹھی آئنے نظر آئے سفر کٹھن تو نہ لگتا تھا چاہتوں کا مگر جو چل پڑے تو کئی مرحلے نظر آئے جہاں پہ ڈوب گیا تھا وہ شخص دریا میں وہاں سے اٹھتے ہوئے بلبلے نظر آئے ہم اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کے گھر سے نسیمؔ نکل پڑے تو کئی معجزے نظر آئے
tumhaare saath kai raabte nazar aae