SHAWORDS
Mohammad Ovais

Mohammad Ovais

Mohammad Ovais

Mohammad Ovais

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

میں آنکھوں میں سبھی کے چبھ رہا ہوں کہ جب سے آئنہ بننے لگا ہوں بجھا دیں گے ہوائیں جانتا ہوں میں سورج تو نہیں ہوں اک دیا ہوں لگا مجھ کو کہ جنت مل گئی ہے گلے لگ کر میں جب ماں سے ملا ہوں نہ جانے لوگ کیسے ہیں یہاں کے میں اس شہر غریباں میں نیا ہوں مرے دن بھی پھریں گے غم نہ کھاؤ میں اب خود سے کمانے لگ گیا ہوں کہاں ممکن دوبارا اٹھ سکوں گا کہ منہ کے بل میں کچھ ایسے گرا ہوں ملی ہے کامیابی مشکلوں سے میں صارمؔ خاک میں پہلے ملا ہوں

main aankhon mein sabhi ke chubh rahaa huun

1 views

غزل · Ghazal

خدایا آپ فقط بندگی کے قابل ہیں یہ سارے لوگ تو بس عاجزی کے قابل ہیں وہ لوگ جس نے کسی کا برا نہیں سوچا وہ کس طرح سے بھلا دشمنی کے قابل ہیں زباں دراز ہیں من مانیاں جو کرتی ہیں سو ایسی لڑکیاں کب رخصتی کے قابل ہیں وہ جس نے عشق و محبت کا فرق سمجھا نہیں تو ایسے لوگ فقط دل لگی کے قابل ہیں جو اپنے چہروں پہ دہرا نقاب رکھتے ہیں تو ایسے دوغلے پھر بے رخی کے قابل ہیں جو تیرگی میں ہی خوش رہ رہے ہیں برسوں سے پھر ایسے لوگ کہاں روشنی کے قابل ہیں یہ لوگ قدر نہیں جانتے ہیں بارش کی یہ تشنہ لب ہی سہی تشنگی کے قابل ہیں وہ غم جو تم سے ملے وہ لکھے ہیں صارمؔ نے ہم اہل درد کہاں شاعری کے قابل ہیں

khudaayaa aap faqat bandagi ke qaabil hain

غزل · Ghazal

جو بات بات پہ کہتا تھا تو ہمارا ہے وہ آج ہم سے یہ کہتا ہے تو پرایا ہے کسی نے حال جو پوچھا کبھی ہمارا تو کہا جواب میں اتنا کہ بس گزارا ہے تلاش چاک گریباں ہوا میں کرتا ہوں سو میرے ساتھ خدا نے کسے اتارا ہے جو شخص آگ کے دریا میں کود آیا ہے خبر نہیں ہے اسے کس طرف کنارا ہے وہ اتنا ڈھیر سکھی ہے ہر اک سے کہتا ہے اے میری جان مرا دل فقط تمہارا ہے وہ جیت سکتا تھا لیکن تو اہل کوفہ تھا تبھی یزید کے لشکر سے جنگ ہارا ہے یہی تو عشق نے صارمؔ سکھا دیا مجھ کو کہ دل کشادہ رہے ہر طرف خسارا ہے

jo baat baat pe kahtaa thaa tu hamaaraa hai

غزل · Ghazal

سب حاکموں کی ہم پہ حکومت برائے نام میرے وطن کی ساری سیاست برائے نام روزہ نماز ساری ریاضت ہے بے اثر سب رائیگاں ہماری عبادت برائے نام مجنوں سا کوہکن سا نہ آیا نظر کہیں اب عاشقوں کی ساری محبت برائے نام ہم راہ مستقیم سے بھٹکے ہوئے تمام غافل ہیں ہم ہماری شریعت برائے نام ہم پر تو عسکری ہی مسلط ازل سے ہیں کٹھ پتلیاں ہیں زیر صدارت برائے نام عادل وطن کے میرے ہیں دشمن سے جا ملے منصف تو بک گئے ہیں عدالت برائے نام

sab haakimon ki ham pe hukumat baraae naam

غزل · Ghazal

رخسار پہ تو قابل برداشت ہے لیکن اک حشر سا برپا ہے ترے ہونٹ کے تل سے ڈسنے نہیں آیا مجھے وہ مار خزانہ ایسا نہ ہو وہ بھی نکل آئے کسی بل سے یہ اس کا مقدر تھا کہ جو ٹوٹ کے بکھرا وہ کانچ کا پیکر متصادم ہوا سل سے اس کو تو ہر اک چیز ہی لگتی تھی کھلونا توڑا ہے مجھے پھر وہ گیا کھیل کے دل سے مٹی میں ہی دفناتے ہیں تب باد فنا لوگ قدرت نے بنایا ہر اک انسان کو گل سے

rukhsaar pe to qaabil-e-bardaasht hai lekin

غزل · Ghazal

منافق ہیں خبر ہے وہ کریں گے وار چپکے سے ہمیں سولی چڑھائیں گے ہمارے یار چپکے سے بھنور دریا کے گہرے ہیں شناور بھی نہیں ہوں میں سفینہ بن کے یہ لہریں کروں گا پار چپکے سے بچھائے پھول جن کی راہ میں ہم نے سدا اس نے عوض پھولوں کے ہاتھوں میں چبھوئے خار چپکے سے کبھی جب اس سے یہ پوچھا کہ کیا مجھ سے محبت ہے نفی میں سر ہلایا پھر کیا اقرار چپکے سے گلے لگ کر میں رویا تھا سبھی پیڑوں سے پت جھڑ میں سو مجھ سے گفتگو کرنے لگے اشجار چپکے سے تمہیں یہ جس نے منبر پر فریبی سے بٹھایا ہے وہ رفتہ رفتہ کھولیں گے تری دستار چپکے سے صدا حق کی کوئی صارمؔ لگائے گر تو سب ظالم گلا اس کا دبائیں گے سر بازار چپکے سے

munaafiq hain khabar hai vo kareinge vaar chupke se

Similar Poets