SHAWORDS
Mohammad Owais

Mohammad Owais

Mohammad Owais

Mohammad Owais

poet
2Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

na dekhi aaj talak main ne yaar ki surat

نہ دیکھی آج تلک میں نے یار کی صورت ہو دور جیسے چمن سے بہار کی صورت وہ منہ کو موڑ کے دل لے کے چل دیے اپنا دیا تھا مجھ کو یہ دل کیوں ادھار کی صورت گلے میں اس طرح کچھ اس نے ڈال دی باہیں یہ لگ رہی ہیں گلابوں کے ہار کی صورت وہ مجھ سے جیت کے اس درجہ خوش نظر آئے ملی ہے جیت مجھے آج ہار کی صورت جگر کو کر دیا چھلنی یہ کیسا وار کیا تری نگاہیں ہیں خنجر کی دھار کی صورت مرے قریب اگر وہ کھڑے نظر آئے تو موت لے گئی راہ فرار کی صورت میں مر گیا ہوں مگر اب بھی ضد نہیں چھوڑی کھلی ہے آنکھ میں دیکھوں گا یار کی صورت نظر میں اس کی کچھ اس طرح گڑ گئی ہے نظر میں دیکھ پایا کہاں اپنے یار کی صورت مرے جنون سے واقف ہے آج تک دنیا کسی نے دیکھی کہاں میرے پیار کی صورت جگر کو کر دیا چھلنی یہ کیسا وار کیا تری نگاہیں ہیں خنجر کی دھار کی صورت میں انتظار میں بیٹھا ہوں کب وہ آئے گا دکھاؤں کس کو دل بے قرار کی صورت کبھی ہے غم کبھی خوشیاں ہیں میرے آنگن میں ہے زندگی مری لیل و نہار کی صورت ہوا میں دم ہی نہیں تھا بجھا سکے اوس کو چراغ جلتا رہا انتظار کی صورت وفا کبھی بڑی انمول چیز تھی اے اویسؔ اسے بھی بخش دی اب کاروبار کی صورت

غزل · Ghazal

kisi ke tir-e-nazar kaa ye dil nishaanaa huaa

کسی کے تیر نظر کا یہ دل نشانا ہوا لو ان کا اب تو خیالوں میں آنا جانا ہوا یہ کون جوڑ رہا ہے اٹھا کے ہر ٹکڑا کے میرے دل کو تو ٹوٹے ہوئے زمانا ہوا کہ وقت نزاع نکلتی ہے روح جس طرح وہ میرے جسم سے اس طرح سے روانا ہوا وہ اس قدر مری آنکھوں کو دے گیا پانی کہ سرد راتوں میں رخسار کو نہانا ہوا جو اس میں آیا تھا وہ کیا دہکتا سورج تھا سلگ کے خاک مرے دل کا آشیانا ہوا ستارے توڑ کے میں اس کی مانگ بھرتا تھا یہ آرزوؤں کا موسم بہت پرانا ہوا یہ لگ رہا ہے خیالوں سے پھر وہ گزرے ہیں ہماری آنکھ میں جب آنسوؤں کا آنا ہوا اٹھایا اس نے تبھی جب اسے ضرورت تھی گرایا اس نے نگاہوں سے جب گرانا ہوا خود اپنے پیروں پے قاتل کے در پے آتا ہوں لہو میں اپنے ہمیں جب کبھی نہانا ہوا کہ قتل ہو گیا مقتول ساتھ قاتل کے یہ وار اس کا مگر مجھ پہ عادلانہ ہوا اویسؔ اب تو کچھ عادت سی ہو گئی ہے ہمیں ہم ان کے پاس گئے جب بھی زخم کھانا ہوا

Similar Poets