SHAWORDS
Mohammad Owais Malik

Mohammad Owais Malik

Mohammad Owais Malik

Mohammad Owais Malik

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ذرا سے دورانیے کی الفت کو جاودانہ بنا رہا ہوں میں ایک بالشت بھر محبت سے اک فسانہ بنا رہا ہوں مجھے وفاؤں کے قحط کا ایک سخت موسم گزارنا ہے محبتوں کو حنوط کر کے نگار خانہ بنا رہا ہوں جو پر کٹے مصلحت پسندی میں شاخ دل پر رکے ہوئے تھے میں ان پرندوں سے سادہ لوحی میں دوستانہ بنا رہا ہوں غضب کی چنگاریاں تو دل داریوں کی شبنم سے سرد ہوں گی میں تلخ لہجوں کو نرم لفظوں سے مشفقانہ بنا رہا ہوں ہوا طنابیں اکھیڑ ڈالے کہ سائباں کو ادھیڑ ڈالے میں خوف سے بے نیاز ہو کر یہ آشیانہ بنا رہا ہوں جہاں میں اب خیمہ زن ہوا تھا وہاں سے چشمہ ابل پڑا ہے سو مختصر سے پڑاؤ کو مستقل ٹھکانہ بنا رہا ہوں

zaraa se dauraaniye ki ulfat ko jaavedaana banaa rahaa huun

3 views

غزل · Ghazal

عجب ستم ہے کہ تیرے حصے سے گھٹ رہا ہوں میں تیرا ہو کر بھی اور لوگوں میں بٹ رہا ہوں تو ایک سیل رواں کی صورت گزر رہا ہے میں اک جزیرہ ہوں ہر کنارے سے کٹ رہا ہوں کھلیں گے اسرار عشق عزلت نشینیوں میں میں ایک دنیا سے ایک دل میں سمٹ رہا ہوں اگر تجھے عشق تاش کا کھیل لگ رہا ہے تو لے میں اپنے تمام پتے الٹ رہا ہوں ازل ابد کے سبھی مسائل پہ بات ہوگی ابھی تو اے زندگی میں تجھ سے نمٹ رہا ہوں ستارے جوں جوں فلک سے معدوم ہو رہے ہیں مجھے یہ لگتا ہے میں بھی منظر سے ہٹ رہا ہوں

ajab sitam hai ki tere hisse se ghaT rahaa huun

3 views

غزل · Ghazal

مری جان خانہ بدوش کو وہ سکوں ملا ترے شہر سے کہ میں کوچ کرنے کے بعد بھی نہ بچھڑ سکا ترے شہر سے میں سحاب بن کے ہواؤں میں تجھے ڈھونڈھتا تھا فضاؤں میں سو ترے مکاں پہ برس پڑا جو گزر ہوا ترے شہر سے تری رہ گزر سے لگاؤ تھا ترے آستاں پہ پڑاؤ تھا ترا حکم تھا کہ سفر کروں سو میں چل پڑا ترے شہر سے نہ وہ بجلیاں تھیں جمال کی نہ وہ بارشیں تھیں وصال کی کئی حسرتوں سے اٹا ہوا میں گزر گیا ترے شہر سے مرا نخل ذات اجڑ گیا میں تری زمیں سے اکھڑ گیا کوئی گرد باد جنون کا مجھے لے اڑا ترے شہر سے کہیں تخلیے کو جو پا لیا وہیں بوریے کو بچھا لیا میں نے کوہ و دشت کی خلوتوں کا مزہ لیا ترے شہر سے میں دیار غیر میں اجنبی کبھی اس گلی کبھی اس گلی میں تری گلی کا اسیر تھا مجھے عشق تھا ترے شہر سے نہ میں کوہ کن نہ میں قیس تھا میں ترے نگر کا اویسؔ تھا انہیں بندمن سے تھیں نسبتیں مرا سلسلہ ترے شہر سے

miri jaan-e-khaana-ba-dosh ko vo sukun milaa tire shahr se

2 views

غزل · Ghazal

بور آیا ہے کہ اک شوق نمو بولتا ہے گل پر جوش کی رگ رگ سے لہو بولتا ہے کتنی شیرینی اتر آئی ہے لہجے میں مرے میری آواز میں لگتا ہے کہ تو بولتا ہے تیری خاموش نگاہی کے تکلم کی قسم تو اگر چپ ہو تو اک عالم ہو بولتا ہے کرنی پڑتی ہے بہت صوت و صدا پر محنت تب کہیں جا کے ترنم میں گلو بولتا ہے سل گیا چاک گریبان مگر بخیہ گرو اب جو بازار میں نکلوں تو رفو بولتا ہے

baur aayaa hai ki ik shauq-e-numu boltaa hai

1 views

غزل · Ghazal

یہ جگر گوشے بھی جب فرمائشیں لے آئیں گے بیچ کر کچھ خواب ہم آسائشیں لے آئیں گے ہیں ابھی سادہ مگر اک دن یہی نوخیز پھول اس چمن میں نت نئی آرائشیں لے آئیں گے اے گل برباد وہ قزاق موسم جب ملا چھین کر واپس تری زیبائشیں لے آئیں گے فتویٰ و قانون بس ہم کج رووں پر سخت ہیں آپ جب چاہیں گے کچھ گنجائشیں لے آئیں گے ہم نے کب سوچا تھا اتنے صاف طینت لوگ بھی دل ہی دل میں اس قدر آلائشیں لے آئیں گے

ye jigar-goshe bhi jab farmaaishein le aaeinge

Similar Poets