Mohammad Raees Alvi
Mohammad Raees Alvi
Mohammad Raees Alvi
Ghazalغزل
ham hue tasvir ab pahlaa saa vo aalam kahaan
ہم ہوئے تصویر اب پہلا سا وہ عالم کہاں رنگ ہیں سب پیرہن میں کھو گئے ہیں ہم کہاں مضمحل ہے صبح کا شعلہ دھواں ہے دشت پر دیکھنا ہے اڑ کے جاتی ہے مگر شبنم کہاں دست قاتل کے لیے ہونٹوں پہ اب بھی مرحبا خون اہل دل کی خاطر سینۂ ماتم کہاں دامن دل میں سمیٹے ہیں ابھی طوفاں کئی سیل اشک و نالۂ غم ہو گئے ہیں کم کہاں دل دھڑکتا ہے ہر اک آہٹ پہ اہل ہجر کا جانتے ہیں وہ کہ آئے گا کوئی اس دم کہاں اڑ کے آتا ہے غبار رہ گزر آنکھوں میں پھر ڈھونڈھتا ہوں کھو گیا ہے دیدٔہ پر نم کہاں
galaa baiThaa hai kaTne ki havas mein hichkiyaan bhar kar
گلا بیٹھا ہے کٹنے کی ہوس میں ہچکیاں بھر کر چلا ہے کوئی ترکش میں قفس کی تیلیاں بھر کر کھڑے ہو بارشوں کی آس میں کیا کشت دل والو کوئی بیٹھا ہوا ہے بادلوں میں بجلیاں بھر کر یہاں تو حرف کا ہونٹوں پہ آتے دم نکلتا ہے دل دیوانہ دامن میں چلا ہے عرضیاں بھر کر تبسم زیر لب بھی عشق کو موج تسلی ہے سمندر سو گیا دامن میں خالی سیپیاں بھر کر کسی نے جب دل برباد کا احوال پوچھا ہے بگولے رہ گزر کی خاک لائے مٹھیاں بھر کر ہمارے شوق کا حاصل ہے یہ اب کوئی کیا ٹھہرے کھڑے ہیں جیب میں دامن کی اپنے دھجیاں بھر کر
kahin pe qais kahin kohkan miyaan likkhaa
کہیں پہ قیس کہیں کوہ کن میاں لکھا تمہارے شوق نے کیا کیا کہاں کہاں لکھا لکھا تمہیں نے قفس کو مقام آگاہی وصال دار کی شب صبح کی اذاں لکھا لکھا تمہیں نے لہو سے کمال گویائی تم ہی نے خنجر قاتل کو ہے زباں لکھا لکھا تمہیں نے مری چشم نم کو قلزم خواب تم ہی نے اس کے تصور کو بادباں لکھا تمہیں نے موج تمنا کو سر کشیدہ کہا تم ہی نے خواہش ساحل کو سرگراں لکھا تمہیں تو نقش کف پائے یار لکھتے رہے تم ہی نے کوچۂ جاناں کو لا مکاں لکھا لکھا تمہیں نے ہے صحرا کو داغ سینۂ عشق تم ہی نے آبلہ پائی سے کہکشاں لکھا لکھا تمہی نے مری بے بسی کا سارا حساب تمہی نے مجھ کو شہ خسرو زماں لکھا تو اب تمہارے لیے کوئی کیا لکھے گا رئیسؔ کہ جس نے کچھ نہ کیا عمر رائیگاں لکھا
mataa-e-aabru le kar ataa se kuchh nahin hotaa
متاع آبرو لے کر عطا سے کچھ نہیں ہوتا بہا ہو خون دل تو خوں بہا سے کچھ نہیں ہوتا مزاج دل بگڑ جائے تو پھر اے مہرباں سنیے جفا سے کچھ نہیں ہوتا وفا سے کچھ نہیں ہوتا سر مقتل تمہارے کارنامے سب نے دیکھے ہیں سر منبر بہت آہ و بکا سے کچھ نہیں ہوتا زباں کھل جائے تو سب بندشیں بے سود ہوتی ہیں قدم اٹھ جائیں تو زنجیر پا سے کچھ نہیں ہوتا
jab dil mein ghurur aae to daanaai bhi kyaa hai
جب دل میں غرور آئے تو دانائی بھی کیا ہے جب رات اندھیری ہو تو بینائی بھی کیا ہے جب ڈوبنا ٹھہرا ہے تو طوفاں کا کسے خوف جب اشک سمندر ہوں تو گہرائی بھی کیا ہے جب زخم ہوں سینے میں تو پھر درد ہے کیا چیز گلشن میں مرے موج ہوا لائی بھی کیا ہے پھر غیر کے ہر جھوٹ پہ کرتا ہے یقیں وہ پھر شوق کو سکتہ ہے کہ سچائی بھی کیا ہے پھر عمر گریزاں نے کہا جاؤ چلے جاؤ کیا اس سے کہو گے وہاں سنوائی بھی کیا ہے پھر دل نے کہا ہنس کے وہ صحرا ہو قفس ہو جب اس سے بچھڑنا ہے تو تنہائی بھی کیا ہے پھر ذکر مرا سن کے کہا اس نے رئیسؔ ایک بس چاک گریباں ہے وہ سودائی بھی کیا ہے
qaraar-e-dil fasaana ho gayaa hai
قرار دل فسانہ ہو گیا ہے تمہیں دیکھے زمانہ ہو گیا ہے تمہارے وعدۂ فردا کا حیلہ قیامت کا بہانہ ہو گیا ہے پرانے دوستوں کے گھر سنا ہے تمہارا آنا جانا ہو گیا ہے تمہارے ظلم کے لعل و گہر سب ہمارا دل خزانہ ہو گیا ہے دعائیں دیں مرے سینہ کو ان کا بہت اچھا نشانہ ہو گیا ہے رئیسانہ غزل ہے بیت در بیت غریبوں کا ٹھکانہ ہو گیا ہے





