SHAWORDS
M

Mohammad Sadiq Qamar

Mohammad Sadiq Qamar

Mohammad Sadiq Qamar

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

آج تک دیدۂ مشتاق سے پنہاں ہی رہے یہ الگ بات وہ نزدیک رگ جاں ہی رہے اور ہوں گے جنہیں ملتا ہے سکون خاطر ہم تری بزم میں آ کر بھی پریشاں ہی رہے اک فقط بزم نگاراں ہی پہ موقوف نہیں ہم سر دار بھی اے دوست غزل خواں ہی رہے یہ بھی ممکن ہے کوئی آئے سر راہ وفا یہ بھی ممکن ہے مرے بعد یہ ویراں ہی رہے

aaj tak dida-e-mushtaaq se pinhaan hi rahe

غزل · Ghazal

سبز پتوں کو جو ترستے ہیں ان درختوں پہ کاش پھل دیکھوں اے غم دل اگر اجازت ہو دو گھڑی کے لئے سنبھل دیکھوں میں کہ سائے کو بھی ترستا ہوں خواب میں نت نیا محل دیکھوں ظلم کا ذائقہ تو ہو معلوم کیوں نہ اک پھول کو مسل دیکھوں شاید اپنا سراغ مل جائے دشت تنہائی سے نکل دیکھوں پھر سنبھالے نہیں سنبھلتا دل اس کی جانب جو ایک پل دیکھوں

sabz patton ko jo taraste hain

غزل · Ghazal

آنسوؤں کا حساب کیا رکھنا شہر جاں زیر آب کیا رکھنا مکڑیاں جال بن رہی ہیں جہاں ان جھروکوں میں خواب کیا رکھنا قتل کرنے کے بعد قبروں پر سرخ و تازہ گلاب کیا رکھنا اس کی تقدیر تو بھڑکنا ہے شعلہ زیر نقاب کیا رکھنا

aansuon kaa hisaab kyaa rakhnaa

Similar Poets