SHAWORDS
Mohammad Salahuddin Taskeen

Mohammad Salahuddin Taskeen

Mohammad Salahuddin Taskeen

Mohammad Salahuddin Taskeen

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

برسوں سے خیالوں میں اک چھوٹی کہانی ہے ہر بات نئی لیکن اک بات پرانی ہے افسانہ تباہی کا لفظوں میں لکھوں کیوں کر کچھ کہتا ہوں آنکھوں سے کچھ دل کی زبانی ہے اک روپ سمایا ہے جس دن سے خیالوں میں ہر دن ہے حسیں میرا ہر رات سہانی ہے دولت یہ ملی مجھ کو حالات کے ہاتھوں سے ایک زخم پرانا ہے اک درد نہانی ہے ارمانوں کے میلے میں جو درد ملا مجھ کو تسکینؔ سمجھتا ہوں الفت کی نشانی ہے

barson se khayaalon mein ik chhoTi kahaani hai

غزل · Ghazal

لمحۂ زیست خواب جیسا ہے آدمی اک حباب جیسا ہے جس کو دریا سمجھ رہے ہو تم وہ چمکتا سراب جیسا ہے میرے آنگن میں کھیلتا بچہ ایک تازہ گلاب جیسا ہے میری آنکھوں میں ہے یہ گنگا جل میرا دل بھی چناب جیسا ہے مسئلہ زندگی کی تختی پر ایک الجھا حساب جیسا ہے جس کو تسکینؔ لوگ کہتے ہیں وہ تو خانہ خراب جیسا ہے

lamha-e-zist khvaab jaisaa hai

غزل · Ghazal

عیاں ہم اپنے خیالات کر کے دیکھتے ہیں اگر وہ چپ ہیں تو ہم بات کر کے دیکھتے ہیں کبھی تو ان کی خموشی کا راز افشا ہو نظر سے آج سوالات کر کے دیکھتے ہیں کئی دنوں سے وہ ملتے نہیں ہیں ہم سے مگر قدم بڑھا کے ملاقات کر کے دیکھتے ہیں نصیب اپنا کبھی تو چمک بھی سکتا ہے کہیں پہ دن تو کہیں رات کر کے دیکھتے ہیں یہاں جو دھوپ ہے نفرت کی ہر طرف تسکینؔ چلو کہ پیار کی برسات کر کے دیکھتے ہیں

ayaan ham apne khayaalaat kar ke dekhte hain

غزل · Ghazal

چہرے پہ عیاں کرب کا منظر نہیں دیکھا لوگوں نے مرے دل میں اتر کر نہیں دیکھا موجوں کے تھپیڑوں کی اسے کیسے خبر ہو صحرا کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا پستی میں جو لے آئی مجھے گردش دوراں اونچائی پہ پھر اپنا مقدر نہیں دیکھا کیوں ٹینک سے توپوں سے ڈراتے ہو ہمیشہ کیا تم نے ابابیلوں کا لشکر نہیں دیکھا دیوالی مناتے رہے تسکینؔ سبھی لوگ افسوس مرا جلتا ہوا گھر نہیں دیکھا

chehre pe ayaan karb kaa manzar nahin dekhaa

غزل · Ghazal

کوئی دل کے قریب تھا پہلے کتنا اونچا نصیب تھا پہلے سادگی میں فریب کھائے تھے حال اپنا عجیب تھا پہلے آج لگتے ہیں سب رفیق مجھے سارا عالم رقیب تھا پہلے اونچے محلوں میں آج رہتا ہے گرچہ بے حد غریب تھا پہلے آج بھی دوست وہ نہیں میرا کون کس کا حبیب تھا پہلے گردش وقت نے کیا خاموش ورنہ تسکیںؔ نقیب تھا پہلے

koi dil ke qarib thaa pahle

Similar Poets