Mohammad Saleem Sagar
وہ آنکھ عجب رو میں بہا لے گئی ہم کو اک موج تھی ساحل سے اٹھا لے گئی ہم کو کب شوق سے جاتا ہے کوئی راہ جنوں پر وہ تو تری نظروں کی خطا لے گئی ہم کو اس شہر میں ہم جرم محبت کے لیے آئے اور دشت میں تقصیر وفا لے گئی ہم کو ہم کون قلندر تھے کہ جا ملتے خدا سے پر اک بت کافر کی دعا لے گئی ہم کو اک زیست ہمیں جس نے کہیں کا نہیں رکھا اک موت کہ سینے سے لگا لے گئی ہم کو لے جاتا تھا ہر یار ہمیں اپنا سمجھ کر پھر یوں ہوا اک روز قضا لے گئی ہم کو خوشبو ترے آنچل کی تھی یا تیرے بدن کی سنگ اپنے بہرحال اڑا لے گئی ہم کو ہم دل تھے اور اک دل کے لیے آئے تھے ساگرؔ پر موج غم دہر بہا لے گئی ہم کو
vo aankh ajab rau mein bahaa le gai ham ko