Mohammad Shareef Quraishi
Mohammad Shareef Quraishi
Mohammad Shareef Quraishi
Ghazalغزل
چلتی ہوئی سانسوں میں برکھا کی ہوا رکھنا گیتوں کی پھواروں سے رنگین فضا رکھنا محکوم جبینوں کو یہ دور سکھاتا ہے بندوں کی غلامی میں سجدوں کو روا رکھنا انداز بدل دینا اظہار محبت کا لب سی دے اگر دنیا آنکھوں میں صدا رکھنا من موجی مسافر ہے کیا جانے کب آ جائے آہٹ کو سنے رہنا آمد کا پتہ رکھنا نیندوں کی گرانی سے تھک جائیں اگر آنکھیں دہلیز پہ سو رہنا آنکھوں کو کھلا رکھنا سر لینا بھی پڑتا ہے سر دینا بھی پڑتا ہے راس آتا نہیں سب کو دستار انا رکھنا
chalti hui saanson mein barkhaa ki havaa rakhnaa
گریز چھوڑ کہ پھیلے ہوئے ہیں بازو آ متاع جسم وہیں رکھ متاع جاں تو آ تجھے اٹھاؤں میں اپنے لبوں کی کشتی میں نہ دیکھ جانب ساحل ذرا لب جو آ اتار دوں میں ترے ذہن کی تمام تھکن سنوار دوں ترے الجھے ہوئے یہ گیسو آ میں تجھ کو لے کے چلوں آخری ستارے تک کہوں اتر کے ذرا چاند کی زمیں چھو آ پکارتا ہے تجھے تار تار پیراہن گلاب رنگ محبت کی پہلی خوشبو آ شریفؔ دیکھ یہ بے آب منظروں کا دھواں سہانی رات کا پھیلا ہوا ہے جادو آ
gurez chhoD ki phaile hue hain baazu aa
بھٹک نہ جاؤں کہیں سیل تیرگی سے بچا مجھے پرائے چراغوں کی روشنی سے بچا ہر اک زبان پہ تازہ لہو کا ذائقہ ہے درندگی سے ہراساں ہوں آدمی سے بچا ہر ایک سائے کو اپنا وجود کھونا تھا وہ رزق دھوپ کا ٹھہرا جو چاندنی سے بچا کسی نے پھول عجب زاویے سے مارا تھا میں بال بال عذاب شکستگی سے بچا جنوں کو میری ہلاکت کا اختیار نہیں بچا سکے تو مجھے میری آگہی سے بچا صدف کا ظرف عطا کر کہ بوند ہو کافی کہیں جو بجھ نہ سکے ایسی تشنگی سے بچا شریفؔ کو جو ترے غم سے بے نیاز کرے مرے خدا مجھے ایسی بری گھڑی سے بچا
bhaTak na jaaun kahin sail-e-tirgi se bachaa
نالۂ آزردگاں ہوں محشر فریاد ہوں لوگ جس کو سن نہیں سکتے میں وہ افتاد ہوں جسم کہتا ہے مجھے زنجیر کا حلقہ سمجھ روح کہتی ہے کہ میں آزاد ہوں آزاد ہوں اس گرفتاری کی مدت دیکھیے کب ختم ہو آپ ہی قیدی ہوں میں اور آپ ہی صیاد ہوں رونقیں پامال میری سرد ہنگامے مرے شہر میں بھی ہوں مگر ویران ہوں برباد ہوں چند رشتے ہیں جو مجھ سے آج تک وابستہ ہیں آئنہ بھولے ہوئے ہیں پتھروں کو یاد ہوں گردش ایام کی آنکھوں کا تارہ ہوں شریف تختۂ مشق ستم ہوں حاصل بیداد ہوں اے شریفؔ اپنی خوشی بھی اس کے غم کی دین ہے جو مجھے غم دے کے خوش ہے اس کے غم میں شاد ہوں
naala-e-aazurdagaan huun mahshar-e-fariyaad huun
موسم کی اوٹ لے کے وہ منظر پہ چھائے ہیں میری نگاہ شوق نے جادو جگائے ہیں پھر یاد آ رہی ہیں ادھوری کہانیاں بدلی ہے چاندنی ہے درختوں کے سائے ہیں ہم تو سمجھ رہے تھے انہیں ہم بھلا چکے اب یاد آئے ہیں تو بہت یاد آئے ہیں یوں بھی کسی کے پیار کا رکھا گیا بھرم آنسو چھپا لیے ہیں مگر مسکرائے ہیں کچھ وہ بھی نیند میں ہیں تو کچھ ہم بھی نیند میں کیا کیا حسین خواب نظر میں سمائے ہیں جن کی چمک دمک پہ زمانہ نثار ہے ان بجلیوں نے کتنے نشیمن جلائے ہیں نادانیوں کا اپنی ٹھکانہ نہیں شریفؔ دریا کے ساحلوں پہ گھروندے بنائے ہیں
mausam ki oT le ke vo manzar pe chhaae hain





