Mohammad Shoaib Mirza
Mohammad Shoaib Mirza
Mohammad Shoaib Mirza
Ghazalغزل
ahl-e-fan dekh lein achchhaa ki buraa kahte hain
اہل فن دیکھ لیں اچھا کہ برا کہتے ہیں ہم سخنور تو نہیں اپنا کہا کہتے ہیں اپنا ہر طور زمانے میں جداگانہ ہے شعر یوں سارے زمانے سے جدا کہتے ہیں غم گساروں پہ کہاں غم کا مداوا کوئی اہل غم ضبط کو ہی غم کی دوا کہتے ہیں نغمہ و مے کا فسوں اپنی جگہ ہے لیکن چشم قاتل کو ہی اندوہ ربا کہتے ہیں عمر بھر چین سے جینے تو نہیں دیتے شعیبؔ بعد مرنے کے سبھی سب کو بھلا کہتے ہیں
zad pe aa jaae to kohsaar mein kyaa rakkhaa hai
زد پہ آ جائے تو کہسار میں کیا رکھا ہے اور مینار میں مینار میں کیا رکھا ہے میں فلک بوس تکبر کا تماشائی ہوں کیسے کہہ دوں ید نادار میں کیا رکھا ہے جذبۂ غیرت مظلوم ہی بیدار نہیں ورنہ ظالم کسی یلغار میں کیا رکھا ہے یہ نہ سمجھا کبھی گرتی ہوئی سرکاروں نے ہم سنبھل جائیں تو سرکار میں کیا رکھا ہے اب تو معیار صحافت ہی نہیں پہلے سا چھوڑ اخبار کو اخبار میں کیا رکھا ہے
bhulun bhi kis tarah se bhalaa bevafaa ko main
بھولوں بھی کس طرح سے بھلا بے وفا کو میں اس کو جفا عزیز ہوئی ہے جفا کو میں آنکھوں میں کوئی اور سمایا نہیں کبھی آنکھیں سفید ہیں تو ملا ہوں قضا کو میں رنج و خوشی کا ساتھ میسر ہوا مجھے ہر دو گھڑی میں بھول نہ پایا خدا کو میں لا ریب تو ہے علت تجسیم سے بری دیکھوں درون قلب ترے نقش پا کو میں دیکھا سنا نہیں نہ پڑھا ہے بہت شعیبؔ لیکن خراج پیش کروں گا رساؔ کو میں
chaahat kaa koi daam nahin hai
چاہت کا کوئی دام نہیں ہے عشق لہو آشام نہیں ہے آنکھوں پر بہتان سراسر دل کے سر الزام نہیں ہے خیر سے ان کا طرز تکلم دشنہ ہے دشنام نہیں ہے ان کے لبوں پر نام ہی آنا کوئی کم انعام نہیں ہے غم کا مداوا ڈھونڈنے والے غم کا مداوا جام نہیں ہے
kabhi bayaan to kabhi tarjumaan badaltaa hai
کبھی بیاں تو کبھی ترجماں بدلتا ہے ستم شعار ارادہ کہاں بدلتا ہے وہ بات بات پہ اپنی زباں بدلتا ہے بدل بدل کے زباں بھی کہاں بدلتا ہے وہ چاہتا ہے مری داستاں مٹا ڈالے اسی سبب سے مری داستاں بدلتا ہے وفا کا لفظ میں اپنے لہو سے لکھتا ہوں مرا ہی خون سدا سرخیاں بدلتا ہے غرور وقت کبھی یہ خیال بھی کرنا بس ایک لمحہ نظام جہاں بدلتا ہے
past himmat se kahaan maa'raka sar hotaa hai
پست ہمت سے کہاں معرکہ سر ہوتا ہے سر کو ٹکراؤ تو دیوار میں در ہوتا ہے اپنی ہستی سے جب اپنا ہی گزر ہوتا ہے طے کہیں تب یہ محبت کا سفر ہوتا ہے لاکھ محروم رہوں باعث یلدا لیکن میری آنکھوں کا ہدف نور سحر ہوتا ہے یہ ضروری تو نہیں شعر کہا بھی جائے شعر پڑھنے میں ہی اعجاز ہنر ہوتا ہے ذکر اپنا بھی محبان و عزیزاں میں شعیبؔ ہو تو جاتا ہے بہ انداز دگر ہوتا ہے





