SHAWORDS
Mohammad Siddiq Naqvi

Mohammad Siddiq Naqvi

Mohammad Siddiq Naqvi

Mohammad Siddiq Naqvi

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

nigaah-e-shauq mein khvaabon kaa ik samundar thaa

نگاہ شوق میں خوابوں کا اک سمندر تھا کھلی جو آنکھ تو میں حادثے کی زد پر تھا تمام عمر میں باہر تلاش کرنے سے خود اپنی ذات میں میں جھانکتا تو بہتر تھا صلیب پر اسے کس جرم میں چڑھایا گیا وہ ایک شخص جو رہبر تھا نہ پیمبر تھا کسی بھی جنگ میں اس نے نہیں فتح پائی یہ اور بات کہ وہ وقت کا سکندر تھا جگا سکی نہ کسی کو ہماری چیخ کبھی ہمارے عہد کا ہر شخص گویا پتھر تھا تمام عمر مری خوف میں کٹی نقویؔ جہاں قیام تھا میرا وہ کانچ کا گھر تھا

غزل · Ghazal

ajiib shakhs hai ki bad-havaas tak bhi nahin

عجیب شخص ہے کہ بد حواس تک بھی نہیں وہ قتل کرتا ہے اور پھر اداس تک بھی نہیں نہ مجھ کو اہل خرد کی صفوں میں ٹھہراؤ مرے نصیب میں اپنے حواس تک بھی نہیں وہ خود کو خضر سے دیتا رہا تھا تشبیہیں صدا دی دشت میں تو اس کی باس تک بھی نہیں کہاں سے بدلے گا حر کی طرح تمہارا نصیب تمہارے شہر میں اک حق شناس تک بھی نہیں ہم اپنی پیاس بجھائیں تو کس طرح نقویؔ ہمارے حصے میں خالی گلاس تک بھی نہیں

غزل · Ghazal

tamaam umr kisi kaa sahaaraa mil na sakaa

تمام عمر کسی کا سہارا مل نہ سکا میں ایسا دریا تھا جس کو کنارا مل نہ سکا تباہیوں کے مناظر ہر آنکھ روشن تھے محبتوں کا کہیں استعارا مل نہ سکا تمام زیست رہی نذر آبلہ پائی سفر کے ختم کا ہم کو اشارا مل نہ سکا کبھی جو سب کے لئے باعث محبت تھا مجھے وجود وہ ایسا دوبارا مل نہ سکا کھلی رہی ہیں ہمیشہ سفر میں آنکھیں مری نگاہ شوق کو رنگیں نظارا مل نہ سکا مری حیات میں تھی جس کے لمس کی گرمی مرے نفس کو پھر ایسا شرارا مل نہ سکا فضائے شہر پہ ہر سمت تھا دھواں نقویؔ کہیں پہ کوئی بھی روشن ستارا مل نہ سکا

غزل · Ghazal

dekhte hi dekhte khushbu ke paikar mar gae

دیکھتے ہی دیکھتے خوشبو کے پیکر مر گئے جس جگہ صحرا ابھر آئے سمندر مر گئے ٹوٹ کر ملنا نہیں ممکن ہوا اس شخص سے دل میں یہ رکھے تمنا اپنے اندر مر گئے نام پر مذہب کے کھیلا ہے سیاست نے یہ کھیل فتنہ پرور بچ گئے اور امن پرور مر گئے منزل مقصود تک جو کر رہے تھے رہبری راستوں کا زہر پی پی کر وہ رہبر مر گئے جو تماشائی تھے وہ سیراب موجوں سے ہوئے تشنگی کا درد لے کر سب شناور مر گئے ایسی حالت میں بھلا کیوں کر نہ ہوتے ہم ذلیل جن سے خودداری تھی ہم میں ایسے جوہر مر گئے ایک لمحے کے لئے بھی وہ نہیں آیا قریں اور ہم جذبات کی شدت سے گھٹ کر مر گئے اب نظر کے سامنے ہے ایک ویراں رہ گزر جو تھے آنکھوں میں مرے نقویؔ وہ منظر مر گئے

غزل · Ghazal

mere nasib mein khud-aagahi kaa dar likh de

میرے نصیب میں خود آگہی کا در لکھ دے بلندیوں کا مرے بخت میں سفر لکھ دے ترے فراق میں میں زندگی گزار چکا تو اپنے وصل کی آیت جبین پر لکھ دے مہہ‌ و نجوم کی صورت تو کر مجھے روشن سیاہ رات کے سینے پہ تو سحر لکھ دے تو اپنے نام کی خوشبو لہو میں پھیلا دے تو میری ڈوبتی سانسوں کو معتبر لکھ دے تو اپنے عشق کی لذت سے مجھ کو زندہ رکھ مرے وجود کو خود مجھ سے بے خبر لکھ دے

غزل · Ghazal

dil chaahaa kare manzar-e-shaadaab mein rahnaa

دل چاہا کرے منظر شاداب میں رہنا اے آنکھ سدا چاند کے ہی خواب میں رہنا خوش رنگ گلابوں سے سجانا سدا محفل اور شام و سحر جلوۂ مہتاب میں رہنا شاید کبھی دیکھا ہے تمہیں اس میں نہاتے چاہا ہے کنول نے اسی تالاب میں رہنا اے زندگی یہ قہر بھی تیرا نہ ہو مجھ پر ہر روز تھکن کا مرے اعصاب میں رہنا تم بھی کسی گل رخ پہ کبھی جان لٹاتے قسمت میں اگر ہوتا جو پنجاب میں رہنا تم جھیل سی آنکھوں میں مجھے اپنی بسا لو دشوار ہوا عالم اسباب میں رہنا تو نے مجھے اے زندگی اتنے دئے چکر تب آیا مجھے حلقۂ گرداب میں رہنا

Similar Poets