SHAWORDS
Mohammad Tariq Ghazi

Mohammad Tariq Ghazi

Mohammad Tariq Ghazi

Mohammad Tariq Ghazi

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

سناتے رہیے حکایات جاگتے رہیے بہت مہیب سہی رات جاگتے رہیے اگر خراب ہیں حالات جاگتے رہیے کہ یہ ہے وقت کرامات جاگتے رہیے یہ فیصلے کی گھڑی ہے ٹھہر بھی جائیے آپ اسی طرح سے مرے سات جاگتے رہیے درست کیجئے قبلہ درست کیجئے کام درست رکھئے حسابات جاگتے رہیے وہ صبح جس کے لئے رات بھر نہ سوئے تھے ہوئی تو دیکھا کہ تھی رات جاگتے رہیے تلاش صبح میں اپنا نشاں مٹا ڈالا اور اب بھٹکتے ہیں دن رات جاگتے رہیے بہت عزیز تھی غفلت جو ہوش آ ہی گیا یہی ہے اس کی مکافات جاگتے رہیے ہزار غلبۂ شب ہو تھکن ہو نیند آئے ابھی بہت ہیں مہمات جاگتے رہیے ہر اک سوال پہ چلئے یہ خامشی ہی سہی بہت ہیں میرے سوالات جاگتے رہیے وہ چرخ ذات سے اتریں تو آسمان بنیں کھلے ہیں سارے سماوات جاگتے رہیے ادھوری باتیں نہ الجھیں گی پھر نگاہوں سے مدام رکھئے عنایات جاگتے رہیے نگاہ لوٹی تو خوابیدہ ذہن جاگ اٹھا ہوئے ہیں پیدا کنایات جاگتے رہیے وہ خاص بات جو منسوب آپ سے ہے حضور اسی سے نکلے نئی بات جاگتے رہیے

sunaate rahiye hikaayaat jaagte rahiye

غزل · Ghazal

چند یادیں ہیں بام و در کے سوا ذہن میں کچھ نہیں کھنڈر کے سوا سر بہت تھے جہان فانی میں در نہ تھا کوئی تیرے در کے سوا سب سقیفہ میں نذر کر آئے اپنی تاریخ کو نظر کے سوا سر میں سودا تھا ٹک کے بیٹھ رہیں پیر میں کچھ نہ تھا سفر کے سوا ایک شہر خطر سے آگے بھی کچھ نہ تھا شہر پر خطر کے سوا ہر بڑے شہر کے مکانوں میں آرزو کچھ نہیں ہے گھر کے سوا چلئے سب ترک کر دیا ہم نے اک تمنائے مختصر کے سوا میں بھی ہوں آب و خاک کا پتلا کیا ہے دنیا بھی بحر و بر کے سوا تم سمجھتے تھے قافلہ جس کو بس وہاں ہم تھے دیدہ ور کے سوا انجمن کا گماں تھا جس پہ وہاں تھا وہ کون ایک دو نفر کے سوا آنکھ کے خول میں سماتا کیا ایک انسان کی نظر کے سوا گفتگو دیر تک رہی لیکن کچھ نہ تھی بات اگر مگر کے سوا وہاں انبوہ غم میں کون نہ تھا سب ہی تھے ایک ہم سفر کے سوا یوں تو منزل بھی تھی ارادہ بھی سامنے سب تھا اک ڈگر کے سوا راہرو سب قدم قدم چھوٹے نہیں اب کوئی راہبر کے سوا میں ہوں باقی لٹے ہوئے گھر میں کیا ملا ان کو مال و زر کے سوا

chand yaadein hain baam-o-dar ke sivaa

غزل · Ghazal

وارفتگی کے ساتھ محابا بھی بہت ہے اظہار تعلق بھی ہے اخفا بھی بہت ہے جب نیند کے سرمے کو ترس جاتی ہیں آنکھیں ان راتوں میں خوابوں کی تمنا بھی بہت ہے وہ اک ورق سادہ جو سونپ آئے تھے تجھ کو اس پر تری نم آنکھوں کا املا بھی بہت ہے آنکھوں کے کٹورے ہوں یا ساغر ہوں لبوں کے دل خوش ہو تو مٹی کا سکورا بھی بہت ہے انکار سے ظاہر ہے کہ سمجھے تو ہیں کچھ بات جانا کہ یہ جانا تو یہ جانا بھی بہت ہے وہ نکتہ جسے کہنے کا یارا نہیں دل کو اس کے لئے تحریر کا پردہ بھی بہت ہے آوازوں کے انبوہ میں اک لفظ نہ پایا یوں کہنے کو خوش وقتی میں پایا بھی بہت ہے کچھ ان کو تامل سا ہے کچھ ہم کو تکلف اب یہ بھی تعلق ہے تو اتنا بھی بہت ہے جب شہر تمنا میں در و بام ہوں خاموش احساس کو تنہائی کا صحرا بھی بہت ہے رو گرداں ہیں اب وہ بھی تو کیا شب نہ کٹے گی طارقؔ تمہیں تو صبح کا تارا بھی بہت ہے

vaaraftagi ke saath muhaabaa bhi bahut hai

غزل · Ghazal

ہمارے دشت کے ذروں میں گم ہے پہنائی انہی میں ڈھونڈئیے میدان آبلہ پائی وکیل کفر تھا کل گویا قصر کابل میں وہیں سے سورۃ النصر کی صدا آئی جنون دجل میں شہزادہ شہر ساز ہے اب وہ بد نصیب کہ تھا اصل میں تو صحرائی ہدف ہیں خلجی و اورنگ زیب اور آزاد کہ ان کا جرم تھا اپنے وطن کی یکجائی ہزار نکتے کئے ذہن نے نئے پیدا کسی کے کام نہ آئی مگر یہ دانائی میں اس جہان میں کوئی مثال بن نہ سکا معاشرے نے عطا کی ہے مجھ کو تنہائی ادھر تو ایشیا بھی کوہ برف ہے طارقؔ سفید ساحتوں میں سوچ بھی ہے سرمائی

hamaare dasht ke zarron mein gum hai pahnaai

غزل · Ghazal

کہوں دنیا میں اب میں کس سے جا کر اگر کرنا ہے کچھ تھوڑی وفا کر ہمارے بخت میں آنسو نہیں ہیں کوئی حاصل نہیں دریا بہا کر میں خالی چشم لوٹ آیا دوبارہ تو دریا ہے تو دو آنسو عطا کر یہ دنیا ہو کہ عقبیٰ امتحاں ہے کوئی گوشہ پکڑ خود کو پڑھا کر نہ حاصل کا نہ غم لا حاصلی کا اٹھا ہاتھ اپنے اور خالی دعا کر میں اشرف بھی یہاں برباد بھی ہوں وہ بے شک خوش ہے یہ دنیا بسا کر شکستہ دل کا جس دم ناز ٹوٹا تپش سی رہ گئی شمعیں بجھا کر میں پھینک آیا ہوں دل دشت نہی میں اب اک قصہ ہے چاہے تو سنا کر گلہ کیا کیجئے اس زندگی سے ملی حسرت تمنائیں سجا کر کبھی ہوتا تھا آقا بحر و بر کا مگر اب وہ ہے صنعت گر کا چاکر پکارا تھا اسے آباد کر دے وہ جاتا ہے ہمارے دل کو ڈھا کر ہے انصاری تو پھر یہ مانگنا کیا اکیلے میں کہیں تنہا صدا کر

kahun duniyaa mein ab main kis se jaa kar

غزل · Ghazal

اک باغ تو لگاؤ ذرا شہر ذہن میں کچھ پھول پھل اگاؤ ذرا شہر ذہن میں افکار پھر غروب ہوئے سمت جہل میں روشن کرو الاؤ ذرا شہر ذہن میں بھٹکو گے کب تلک بھلا صحرائے نجد میں اک روز ادھر تو آؤ ذرا شہر ذہن میں ہم بھی امیدوار ہیں اے شہریار دل ہم کو بھی تو بلاؤ ذرا شہر ذہن میں لگتا ہے جیسے باب کرامت ہی بند ہے پھر چشم ناز اٹھاؤ ذرا شہر ذہن میں اے اہل خانقاہ جگاؤ دماغ کو صوت اذاں اٹھاؤ ذرا شہر ذہن میں آؤ تمہیں تماشا دکھائیں شعور کا آ جاؤ رہنماؤ ذرا شہر ذہن میں کب تک بتوں کے پیروں میں خود کو گراؤ‌ گے اب تو انہیں گراؤ ذرا شہر ذہن میں زنار بند دیر نشیں سجدہ ریز ہوں یوں اپنی چھب دکھاؤ ذرا شہر ذہن میں

ik baagh to lagaao zaraa shahr-e-zehn mein

Similar Poets