SHAWORDS
Mohammad Tausif

Mohammad Tausif

Mohammad Tausif

Mohammad Tausif

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

کرب کا سامنا کھیل تو ہے نہیں کونسا عشق اس میں تو سر جائیں گے آپ کو اچھے سے جانتا ہوں میاں آپ تو بات کرنے سے ڈر جائیں گے یوں زبوں حال دیکھا تو ہمدردی میں گردش دوراں بھی ہم سفر ہو گئی لوگ ڈرتے ہیں ایسی بلا سے بہت اور ہم ہیں اسے لے کے گھر جائیں گے ایسے بے حس بھی موجود ہیں اے خدا سر بہ سر جن میں عنصر نہیں خوف کا ہم برا سوچتے ہیں کسی کا اگر تو یقیں مان کچھ دیر مر جائیں گے کچھ مراتب مقامات کی حد سے بھی طے کیے جاتے ہیں دو جہاں میں نقیب اب اگر دیکھ روح الامیں جاتے ہیں آگے سدرہ سے تو ان کے پر جائیں گے وحشتیں یوں مقدر ہوئی ہیں کہ ہم بعد تیرے تو شوریدہ سر ہو گئے کام ترتیب میں کر نہیں پاتے اب کرنا کچھ چاہیں کچھ اور کر جائیں گے یہ ضروری نہیں دے دو خیرات میں نان نفقہ کسی مانگنے والے کو تجربہ ہے مرا بعض کشکول تو سن کے علویؔ دلاسے ہی بھر جائیں گے

karb kaa saamnaa khel to hai nahin kaunsaa ishq is mein to sar jaaeinge

1 views

غزل · Ghazal

پھر سماعت کو بھی بھاتا ہے ردم ترتیب سے ہو اگر اس میں ترے لہجے کا دم ترتیب سے تجھ سے ملتے ہی یوں کھل جاتے ہیں ہم ترتیب سے جوں ہو پت جھڑ میں بہاروں کا جنم ترتیب سے ایک اک کر کے کریں گے پیش سب فرمائشیں یعنی ڈھائے جائیں گے تم پر ستم ترتیب سے ہو دل مفلس میں خوباں کو سکوں کیسے کہ ہے لا محالہ دھڑکنوں کا زیر و بم ترتیب سے یار بے ڈھنگا چلن اچھا نہیں ہے زیست میں ہم اصولی ہیں اٹھائیں گے قدم ترتیب سے موت برحق تو ہے لیکن اک قرینے کی طرح خود کو میں لے کر گیا سوئے عدم ترتیب سے جوس چائے ناشتہ پھر کرتے ہیں کچھ دوڑ دھوپ جب امیری ہو تو بھرتا ہے شکم ترتیب سے راستے ہموار ہوتے ہی نہیں میرے لیے ٹھوکریں کھا کے بنا ہوں میں تہم ترتیب سے عہد فرقت چند آنسو اور ہچکی موت کی وقت رخصت ہے سو نکلے ہے نسم ترتیب سے زندگی میں صرف بچپن کو میسر ہے سکوں پھر جوانی اور ضعیفی ہیں الم ترتیب سے چار عنصر یوں تو ہیں تخلیق انساں میں مگر پانچواں دکھ مجھ میں شامل ہے بہم ترتیب سے سب کی سنتا تھا کبھی روداد علویؔ شوق سے جھوٹ سن سن کے بنا ہے یہ اصم ترتیب سے

phir samaaat ko bhi bhaataa hai rythm tartib se

1 views

غزل · Ghazal

اک دیا آنکھ کے مقابل ہو روشنی تیرگی کا حاصل ہو جو مسیحائی کر رہا ہے ابھی عین ممکن ہے دست قاتل ہو تم حسیں ہو مگر ضروری نہیں ہر کوئی حسن ہی سے قائل ہو بعض رستے طویل ہوتے ہیں انت لازم نہیں کہ منزل ہو در پہ آیا ہے تو فلا تنھر کیا خبر رب کا بھیجا سائل ہو یہ فقط عشق کے مراتب ہیں خلد میں حبشی پہلے داخل ہو آنکھ میں عکس ڈھونڈنے والے بحر کا لازمی ہے ساحل ہو حق معظم ہے اس لیے علویؔ سامنے جو بھی آئے باطل ہو

ik diyaa aankh ke muqaabil ho

غزل · Ghazal

تجھ سے پہلے تو کوئی اور خدا تھا لیکن پھر وہ مجذوب سر راہ ملا تھا لیکن راہ بہتر نہیں ہے تیرے لیے یہ مری جان تجھ سے پہلے بھی کئی بار کہا تھا لیکن سہل کب ہوتا ہے مر مٹنا کسی کی خاطر سر بکف میں تو جنوں بن کے لڑا تھا لیکن تو نے اس وقت تلطف نہ کیا مجھ پر کیوں میں صدا بن کے وفا بول رہا تھا لیکن چارہ سازی میں تصرف سے چلیں تو بہتر میں ترے سر پہ فلک بن کے اٹھا تھا لیکن کیا بتاؤں گا جو پوچھیں گے زمانے والے دل شکن تو ہوا کیوں مجھ سے خفا تھا لیکن فرط الفت میں ترے پا کی قسم ہے علویؔ میں تری رہ میں دیا بن کے جلا تھا لیکن

tujh se pahle to koi aur khudaa thaa lekin

غزل · Ghazal

دنوں کی ہفتے میں تعداد سات ٹھہری ہے اسی مدار میں کل کائنات ٹھہری ہے تھرک رہے ہیں مرے لب مخاطبت میں تبھی زباں کی نوک پہ کچھ ایسی بات ٹھہری ہے گھٹا مچلتی ہے بادل کی اس کے آنچل پر دراز گیسوؤں میں اس کے رات ٹھہری ہے بہار نام ہوا تیرا پیراہن کھلنا ترے بدن کی خزاں رت زکوٰۃ ٹھہری ہے تمہارے گال سے سرخی چرائی وقت سحر نظر کٹار کی جیسے نشاط ٹھہری ہے یہ آٹا گوندھتے ہاتھوں کے لمس کی سوگند تری کلائی کے صدقے پرات ٹھہری ہے ترے حضور مرے سانس سہل ہیں مجھ پر بدن میں دید سے تیری حیات ٹھہری ہے یہ رکھ رکھاؤ ترا نازکی بھرا لہجہ ترے بیان پہ ساری ثقات ٹھہری ہے کسی کی بات پہ ٹھہراؤ کب ہوا اپنا تمہاری بات پہ آئے تو بات ٹھہری ہے طرح طرح کی شباہت بیاں ہوئی علویؔ یہ رات دن نہ ہوئی پھر بھی رات ٹھہری ہے

dinon ki hafte mein taadaad saat Thahri hai

غزل · Ghazal

سارا ایمان امکان کی راہ میں بس تمہارے شغف سے چلا آتا ہے حر سر کربلا جیسے شبیر کی سمت دشمن کی صف سے چلا آتا ہے میں تمہارا تو محور نہیں جانتا ہاں مگر میں کسی کی نگاہوں میں ہوں گرنے لگتا ہوں تو تھامنے کے لیے ہاتھ کوئی نجف سے چلا آتا ہے کان ہر عیب پر تھاپ کے منتظر آنکھ ٹک تیری کمزوریوں پر رہی دوستا تو کہاں رینگتا رینگتا میرے کرتے کے کف سے چلا آتا ہے دیکھ چلہ ضروری ہے از راہ پاکیزگیٔ نفس تا بہ فردائے حشر بعد مدت کوئی ذرہ جوں بن کے موتی دہان صدف سے چلا آتا ہے خامشی علم ہے اس لیے صاحب معرفت بولتے ہیں بہت سوچ کر جیسے دھاگہ ادھڑتا ہوا ایک ترتیب کے ساتھ غف سے چلا آتا ہے یاد میں علویؔ جس کے لیے تو دعا بعد مسجد کے مندر میں بھی ہو چکی تو مجھے کیا ہرائے گی میری مدد کو خدا ہر طرف سے چلا آتا ہے

saaraa imaan imkaan ki raah mein bas tumhaare shaghaf se chalaa aataa hai

Similar Poets