
Mohammad Waseem
Mohammad Waseem
Mohammad Waseem
Ghazalغزل
عشق کو عشق کے اب نام ہی کر جانا ہے اور پھر عشق ہی کرتے ہوئے مر جانا ہے مجھ کو دنیا تری رنگت سے ہی پہچانے گی اس لئے مجھ کو ترے رنگ میں بھر جانا ہے ہم بھی موسیٰ کی طرح پار کریں گے دریا وہ ہے فرعون اسے ڈوب کے مر جانا ہے اس سے بڑھ کر کوئی اعجاز نہیں ہو سکتا ہم ہیں دستار کسی کے ہمیں سر جانا ہے گفتگو بند ہے اس سے تو سر راہ گزر میں نے نظروں سے یہ پوچھا کہ کدھر جانا ہے صبح ہونے کو ہے اور شمع بجھاتے ہی وسیمؔ رقص کرتے ہوئے پروانے کو مر جانا ہے
'ishq ko 'ishq ke ab naam hi kar jaanaa hai
ہوا چراغ سے جب انتقام لینے لگے تو روشنی بھی اندھیروں سے کام لینے لگے ہم اپنے نام کی شہرت سے یوں بھی عاجز ہیں ہمارا نام سبھی خاص و عام لینے لگے تمہاری یاد ہی کافی ہے روشنی کے لیے تمہارا نام ہی ہم صبح و شام لینے لگے ضرورتوں میں کوئی کام جب نہیں آیا تو مصلحت سے یہاں ہم بھی کام لینے لگے شعور کب انہیں آئے گا مے کشی کا بھلا یہ کیسے رند ہیں ہاتھوں میں جام لینے لگے کسی درخت کے سائے میں بیٹھتے ہیں وسیمؔ کہ نیزے دھوپ کے اب انتقام لینے لگے
havaa charaagh se jab intiqaam lene lage
عشق کے راستوں سے گزرا ہوں میں کئی حادثوں سے گزرا ہوں اشک سوکھے پڑے ہیں آنکھوں میں سارا دن قہقہوں سے گزرا ہوں حسن پر اپنے ناز مت کرنا میں کئی مقبروں سے گزرا ہوں وصل سے ہجر ہجر سے وحشت میں سبھی مرحلوں سے گزرا ہوں زندگی تجھ کو جاننے کے لیے عمر بھر تجربوں سے گزرا ہوں
'ishq ke raaston se guzraa huun
کہنے کو ایک شخص ہی سارا جہان ہے ورنہ تو ساری دنیا ہی کچا مکان ہے مجھ کو وہی حسین پسند آئی شہر میں مشہور ہے جو سب سے بڑی بد زبان ہے اس نے نبھائی رسم وفا چند روز تک باقی تو میرے صبر کی ہی داستان ہے تسکین قلب اور لطافت سے گفتگو یعنی ہمارے درمیاں اردو زبان ہے ہر بار اس کی باتوں سے ٹوٹا ہے دل وسیمؔ ہر بار دل اسی پہ مگر مہربان ہے
kahne ko ek shakhs hi saaraa jahaan hai





