
Mohammed Asif Ashaj
Mohammed Asif Ashaj
Mohammed Asif Ashaj
Ghazalغزل
ye fitnon ke sabab kitne mareinge
یہ فتنوں کے سبب کتنے مریں گے خدا یا کیا کبھی فتنے مریں گے ہمیں یہ عشق میٹھا زہر ہوگا تمہارے دل میں رہ رہ کے مریں گے ہمیں پرہیز ٹھہری انتظاری ہم اپنے وقت سے پہلے مریں گے کسی دن موت لٹکے گی وہاں پر ستمگر رسیاں پنکھے مریں گے سکھا جاؤں گا نسلوں کو میں اپنی اداسی میں سلیقے سے مریں گے ہم ایسوں کا یہی تو مسئلہ ہے ہم ایسوں کے سبھی رشتے مریں گے یہ تک بندی سماعت کھا رہی ہے مرے اشعار پھر بھوکے مریں گے
'ishq kaa pukhta nahin thaa koi dar divaar par
عشق کا پختہ نہیں تھا کوئی در دیوار پر میرؔ کا سایہ ابھی تک ہے مگر دیوار پر اب صدائے کن تری جانب سے لازم ہے خدا گھر سمجھ بیٹھا ہے بچہ لکھ کے گھر دیوار پر تتلیاں ہر سمت سے آ بیٹھتی ہیں اس جگہ دو گھڑی اس نے ٹکائی تھی کمر دیوار پر دل فریبوں کا نہ ہوگا خوں سے بھی دل آشنا اور پھر کب تک دئے جائیں گے سر دیوار پر زندگی بھٹکا رہی ہے موت کے در سے مجھے اک نشان سمت بیجا کھینچ کر دیوار پر
kaun jaane kab kahaan kis kaa rahegaa 'umr bhar
کون جانے کب کہاں کس کا رہے گا عمر بھر یہ حقیقت ہے فقط گریہ رہے گا عمر بھر الجھنیں دیوار کے مانند ہوتی جائیں گی خوف ان پہ بیل بن لپٹا رہے گا عمر بھر کل نفس لکھ دیا اور بات واضح ہو گئی خلق کا نام و نشاں مٹتا رہے گا عمر بھر پھر دکاں کھولی اداسی کی ہمارے قیس نے اب منافع واقعی بڑھتا رہے گا عمر بھر میں اماوس رات کالی اور تم دیپاولی بس ہمارا رابطہ اتنا رہے گا عمر بھر
hazaar haif ke imkaan baandh letaa thaa
ہزار حیف کے امکان باندھ لیتا تھا تری جو زلف پریشان باندھ لیتا تھا وہ کیا ذہین تھا ایجاد گھر کیا جس نے بڑے سے پنجرے میں انسان باندھ لیتا تھا وہ مسخرہ تو تھا انجام سے مگر واقف جنوں کے تسموں سے مسکان باندھ لیتا تھا ہدف تھا وجہ تلاشیں کہ خودکشی کیوں کی زمانہ لڑکی پہ بہتان باندھ لیتا تھا شدید پیاس میں جیوں ہی کرے وہ ہونٹ قریں گلاس لمس کے ارمان باندھ لیتا تھا مرے وجود پہ ہنستا تھا عکس آئینہ سو ہار مان کے میں کان باندھ لیتا تھا غضب وظیفہ اشجؔ ہے یہ آیت الکرسی ذرا سا بچہ بھی شیطان باندھ لیتا تھا
teri taskin mein ganvaa dungaa
تیری تسکین میں گنوا دوں گا غم کو تدفین میں گنوا دوں گا وہ دعا مانگے تو بچھڑنے کی میں بھی آمین میں گنوا دوں گا میں کسی فلم میں ہیروئن کو پہلے ہی سین میں گنوا دوں گا عین تک عشق میں سنبھالوں گا پھر اسے شین میں گنوا دوں گا زندگی کا میں آخری صفحہ تیری تحسین میں گنوا دوں گا





