Mohan Javidani
Mohan Javidani
Mohan Javidani
Ghazalغزل
کون جانے کتنی باقی کس کے پیمانے میں ہے جتنا جس کا ظرف ہے اتنی ہی مے خانہ میں ہے یہ ترا احسان ہے جو تو نے اپنا غم دیا غم میں ڈھل جانے کی عادت تیرے دیوانے میں ہے کیا مری رسوائیوں میں تیری رسوائی نہیں نام تیرا بھی تو شامل میرے افسانے میں ہے آنسوؤں میں جگمگاتی ہیں تری پرچھائیاں کیا چراغاں کا یہ منظر دل کے ویرانے میں ہے کہہ رہی ہے مجھ سے موہنؔ چشم ساقی بار بار مے کشی کا لطف پی کر ہی سنبھل جانے میں ہے
kaun jaane kitni baaqi kis ke paimaane mein hai
لاکھ جلوے ہیں نگاہوں میں نظاروں کی طرح دل کے گلشن میں وہ آئے ہیں بہاروں کی طرح ہر گھڑی ایک نیا رنگ نیا عالم ہے زندگی ہے تری آنکھوں کے اشاروں کی طرح زندگی پھر کسی طوفان سے الجھے گی ضرور ہونٹ خاموش ہیں دریا کے کناروں کی طرح کتنی پر نور ہوئی جاتی ہے اب منزل شوق نقش پا ان کے چمکتے ہیں ستاروں کی طرح شعلۂ عشق کا بجھنا نہیں آساں موہنؔ اشک آنکھوں سے ڈھلکتے ہیں شراروں کی طرح
laakh jalve hain nigaahon mein nazaaron ki tarah





