Mohan Seerat Ajmeri
Mohan Seerat Ajmeri
Mohan Seerat Ajmeri
Ghazalغزل
زخم اب دل کے چمک دیتے ہیں ہیروں کی طرح ہم ترے شہر میں رہتے ہیں امیروں کی طرح کر دیا قید ہمیں وقت کی دیواروں نے ورنہ ہم لوگ بھی تھے چھوٹتے تیروں کی طرح شام کو ڈوبتے سورج کی چمکتی سرخی دور تک پھیل گئی خونی جزیروں کی طرح جب بھی آتی ہے کوئی فتنہ جگا دیتی ہے تیری مسکان ترے لب پہ شریروں کی طرح یہ ملا مجھ کو صلہ میری وفا کا سیرت لکھ دیا نام مرا اس نے لکیروں کی طرح
zakhm ab dil ke chamak dete hain hiron ki tarah
مرا ہی نقش کف پا دکھائی دیتا ہے ترے نگر کا یہ رستہ دکھائی دیتا ہے مرے قریب سے گزری ہے بارہا دنیا بہت اداس ہے ایسا دکھائی دیتا ہے وہ تشنہ لب ہوں کہ جس کو ہے جستجوئے سراب مری تلاش میں دریا دکھائی دیتا ہے نگل لیا ہے مجھے وقت کے تقاضوں نے مرا وجود تو پردہ دکھائی دیتا ہے یہاں سنا ہے سمندر تھا کچھ دنوں پہلے اب ایک خاک کا صحرا دکھائی دیتا ہے دئے ہیں زخم زمانے نے سینکڑوں سیرتؔ دیا جو اس نے وہ تنہا دکھائی دیتا ہے
miraa hi naqsh-e-kaf-e-paa dikhaai detaa hai
کڑا تھا وقت زمانے کو آزماتے کیا نہیں تھا تیل چراغوں میں ہم جلاتے کیا ہمارے ساتھ زمانے کے لوگ آتے کیا بجھے دیے ہیں انہیں راستہ دکھاتے کیا نہیں تھی جنس وفا جن کے پاس آتے کیا مرے نگر میں وہ آ کر صدا لگاتے کیا شکستہ پر ہیں تو جکڑا ہے وقت نے ہم کو ہوا کے دوش پہ ہوتے تو ہاتھ آتے کیا بہت سے لوگ ہمیں پڑھ رہے تھے اے سیرتؔ کھلی کتاب تھے لیکن سمجھ میں آتے کیا
kaDaa thaa vaqt zamaane ko aazmaate kyaa
دل تو پکا تھا مگر دل کی دلیلیں کچی لے گریں پختہ عمارت کو فصیلیں کچی آ گئے رنگ کے دھوکے میں زمانے والے سرخ پھولوں پہ جھپٹتی رہیں چیلیں کچی آ گئی بات سر بزم زباں پر دل کی تو نے ہونٹوں پہ جڑیں ضبط کی کیلیں کچی کچے انگور کی اک بیل بدن ہے اس کا اور آنکھیں ہیں مئے ناب کی جھیلیں کچی لے اڑے ابر کے ٹکڑوں کو ہوا کے جھونکے سوکھ کر بیٹھ گئیں خاک میں جھیلیں کچی پھر پلٹ آئیں گے سیرتؔ یہ جنوں کے موسم دھجیاں جیب و گریبان کی سی لیں کچی
dil to pakkaa thaa magar dil ki dalilein kachchi
الفاظ ہیں یہ سارے اسی کی زبان کے پہچانتا ہوں تیر میں اس کی کمان کے ہر بوند پہ گمان تھا موتی کی آب کا آنکھوں میں اشک آئے بڑی آن بان کے ہر ہر ادا و ناز کی قیمت تھے جان و دل سودے بہت ہی مہنگے تھے اس کی دکان کے اس کے عجب سوال تھے میرے عجب جواب پرچے سبھی خراب ہوئے امتحان کے غم سے زیادہ اور نہ بہتر لگا کوئی عنوان سینکڑوں تھے مری داستان کے کس سادگی سے اس نے یہ سیرتؔ کہا مجھے تارے بھی توڑ سکتے ہو کیا آسمان کے
alfaaz hain ye saare usi ki zabaan ke





