Mohibullah Rafiq
Mohibullah Rafiq
Mohibullah Rafiq
Ghazalغزل
raah-e-pur-khaar se jo gayaa bhi nahin
راہ پرخار سے جو گیا بھی نہیں زندگی کیا ہے اس کو پتا بھی نہیں کس قدر گہرا رشتہ ہے امید سے میں نے اس کا لیا جائزہ بھی نہیں درد دے کر وہ کہتے ہیں ہمدرد ہوں اس سیاست کا کوئی سرا بھی نہیں آرزو لے کے ملنے گیا تھا مگر میں نے کچھ کچھ کہا اور سنا بھی نہیں داغ چھپ جائیں چہرے کے جس میں سبھی جگ میں ایسا کوئی آئنہ بھی نہیں ہے رفیقؔ اپنا رشتہ ہر انسان سے میں کسی کو کبھی جانچتا بھی نہیں
jaDon se apni judaa huaa hai
جڑوں سے اپنی جدا ہوا ہے مصیبتوں میں گھرا ہوا ہے ترقی تہذیب عصر حاضر کہ انساں حیواں بنا ہوا ہے فقط دکھایا تھا آئنہ ہی اسی پہ قائد خفا ہوا ہے تلاش قاتل کی کرنے والو تمہیں میں قاتل چھپا ہوا ہے چٹائی پر بھی تھا کوئی رہبر یہ قصہ گویا سنا ہوا ہے وفا کا جس نے کیا تھا وعدہ وہ دشمن جاں بنا ہوا ہے ہمارے عہد وفا کا قصہ وہ آب زر سے لکھا ہوا ہے وہاں سنبھل کر رفیقؔ چلنا جہاں پہ کانٹا بچھا ہوا ہے
dard-o-alam kaa maskan ab Dhah nahin sakegaa
درد و الم کا مسکن اب ڈھ نہیں سکے گا آنکھوں کا خشک پانی اب بہہ نہیں سکے گا جاں پر کیا ہے قبضہ سمع و بصر بھی لے لو تم کو خراش آئے دل سہہ نہیں سکے گا فکر معاش کیا ہے تو جان لے گا اے دل دم توڑتا ترا گھر جب رہ نہیں سکے گا جس کے لیے گنوایا سب کچھ رفیقؔ تو نے لیکن وہ تیرے حق میں کچھ کہہ نہیں سکے گا
be-sabab pahle ham ko sazaa di gai
بے سبب پہلے ہم کو سزا دی گئی قید کی اور مدت بڑھا دی گئی ہم ہی اہل وفا پاسبان چمن اور تہمت بھی ہم پر لگا دی گئی کوئی مجرم نہیں جانتے بوجھتے شک کی سوئی ہمی پر گھما دی گئی کوششیں صلح کی رائیگاں ہو گئیں غیظ کی اور شدت بڑھا دی گئی مال و زر باپ کے گھر سے لائی نہ تھی اس لیے بنت حوا جلا دی گئی وہ محبت ہی کرتا رہے گا سدا دل میں جس کے محبت بسا دی گئی اک سہارا تھی تاریکیوں میں رفیقؔ ہائے وہ شمع بھی اب بجھا دی گئی
bhaTak na jaae phir insaan rah dikhaao zaraa
بھٹک نہ جائے پھر انسان رہ دکھاؤ ذرا چراغ پھر سے اندھیروں میں تم جلاؤ ذرا جو مانگ لیتے سلیقے سے جان دے دیتے مگر دغا سے تمہیں کیا ملا بتاؤ ذرا وہ دے گیا ہے دغا جس سے کی وفا برسوں وفا کی کس سے اب امید ہو بتاؤ ذرا اگر غزل میں تمہاری دوائے درد بھی ہے تو آؤ میرے قریب اور غزل سناؤ ذرا رفیقؔ منزلیں آسائشوں سے بھاگتی ہیں تمہارے پیٹ پہ پتھر ہے کیا دکھاؤ ذرا
zindagaani kaa maza us ne hi paayaa hogaa
زندگانی کا مزہ اس نے ہی پایا ہوگا جس نے سینے سے غریبوں کو لگایا ہوگا حق پرست اپنی جگہ پر رہے پھر بھی قائم ظالمو تم نے بہت زور لگایا ہوگا جب بھی آتی ہے خوشی غم مجھے دے جاتی ہے غم بھی لگتا ہے خوشی میں ہی سمایا ہوگا آتش عشق ہے یہ اس کو بجھا کر دیکھو آندھیو تم نے چراغوں کو بجھایا ہوگا گو بلندی پہ پہنچ جائے مگر ہے مجرم بے قصوروں کا لہو جس نے بہایا ہوگا عزم و ہمت کو مرے آؤ گرا کر دیکھو آندھیو تم نے درختوں کو گرایا ہوگا ماں کی ممتا کا تو اندازہ نہیں کر سکتا بھوکے رہ کر بھی تجھے اس نے کھلایا ہوگا جس کو سینچا تھا رفیقؔ اپنا لہو دے کے کبھی کیا خبر تھی کہ وہی پھول پرایا ہوگا





