Mohit Anand
یہ سوچنا وہ کسی اور کا نہیں ہوگا ہمارے حق میں ہمیشہ خدا نہیں ہوگا دماغ دل میں یہی جنگ ہے ہمیشہ سے لڑائی ہوگی کوئی فیصلہ نہیں ہوگا تمہاری یاد میں آنکھوں کی جھیل سوکھ چلی تمہیں لگا کہ کوئی حادثہ نہیں ہوگا ہمیں پتہ ہے چنی تم نے بے وفائی کیوں تمہارے پاس کوئی راستہ نہیں ہوگا مغالطے میں اسی جی رہا ہے تو اب تک میں ہنس دیا تو مرا دل دکھا نہیں ہوگا
ye sochnaa vo kisi aur kaa nahin hogaa