SHAWORDS
Mohkam Abbas

Mohkam Abbas

Mohkam Abbas

Mohkam Abbas

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

مت پوچھ تیرے ہجر میں کتنا حزیں ہوں میں مایوس زندگی سے اجل سے قریں ہوں میں ہوں کشتۂ فراق مری بیکسی تو دیکھ اک چلتی پھرتی لاش ہوں زندہ نہیں ہوں میں تجھ کو صنم گئے ہوئے مدت ہوئی مگر چھوڑا تھا جس مقام پہ اب تک وہیں ہوں میں گم ہوں ترے خیالوں کی میں وادیوں میں آج مجھ کو نہ کر تلاش کہ خود میں نہیں ہوں میں آباد کر لیا ہے جو اپنا جہاں الگ دنیائے حسن و عشق میں گوشہ نشیں ہوں میں تھامے ہے دست غم مرے دامن کو کس لئے گویا کہ اس کے واسطے حبل المتیں ہوں میں بکھرائے زلف سوتی ہیں جس جا اداسیاں محکمؔ اسی مکان الم کا مکیں ہوں میں

mat puchh tere hijr mein kitnaa hazin huun main

غزل · Ghazal

اوروں سے دل لگانے کی عادت نہیں مجھے تیرے سوا کسی سے محبت نہیں مجھے آئے نظر نہ جس میں ترا عکس خوش جمال اس آئنے کی کوئی ضرورت نہیں مجھے جس دن سے تیرے ہجر کا پایا ہے میں نے غم بزم طرب میں رہنے کی چاہت نہیں مجھے ذکر شب فراق سے آتا ہے مجھ کو خوف ورنہ کسی بھی چیز سے وحشت نہیں مجھے میں تجھ کو سوچنے میں ہوں مشغول اس طرح خود اپنا سوچنے کی بھی فرصت نہیں مجھے آنکھوں کو تیرے چہرے کا دیدار ہو نصیب اب اور زیست میں کوئی حسرت نہیں مجھے جو بات دل میں ہے وہ بیاں کس طرح کروں محکمؔ کہ لب کشائی کی جرأت نہیں مجھے

auron se dil lagaane ki 'aadat nahin mujhe

غزل · Ghazal

زمین چھینی کبھی آسمان چھین لیا تمہارے شہر نے میرا جہان چھین لیا خزاں کی دھوپ کا کس سے کرے گلہ گلشن کہ باغباں نے ہی جب سائبان چھین لیا رہا نہ کر مجھے صیاد شل ہیں یہ بازو ترے قفس نے مرا آسمان چھین لیا شب فراق یہ کتنی طویل ہے یارب کہ بانگ مرغ سے شوق اذان چھین لیا یہ کس اسیر سلاسل کی لب کشائی نے امیر وقت سے زور بیان چھین لیا جسے مکاں میں بسایا تھا ہم نے کل محکمؔ اسی نے آج ہمارا مکان چھین لیا

zamin chhini kabhi aasmaan chhin liyaa

غزل · Ghazal

لاکھ موجود ہوں سبھی جاناں ہے تمہاری مگر کمی جاناں ہم تمہارے بنا جئیں کیسے موت ہے ایسی زندگی جاناں بے قراری اداسیاں وحشت میری قسمت ہے کیا یہی جاناں ہجر کا پوچھتے ہو کیا عالم ایک لمحہ ہے اک صدی جاناں تم ہی الفاظ ہو تمہیں احساس تم ہی ہو روح شاعری جاناں صرف تم ہی تو عشق اول ہو اور ہو تم ہی آخری جاناں گر حقیقت میں مل نہیں سکتے آؤ خوابوں میں تو کبھی جاناں روبرو تم نہیں رہے لیکن صرف تصویر رہ گئی جاناں تم کو پائیں تو زندگی محکمؔ ورنہ کر لیں گے خودکشی جاناں

laakh maujud hon sabhi jaanaan

غزل · Ghazal

تیری صورت بسی ہے آنکھوں میں اس لئے روشنی ہے آنکھوں میں تیرے دیدار کے لئے جاناں ایک ہلچل مچی ہے آنکھوں میں ہے عجب انتظار کا عالم نیند بھی جاگتی ہے آنکھوں میں دیکھ کر تم کو بند کر لیں گے بس تمہاری کمی ہے آنکھوں میں یوں تو دریا سموئے ہیں لیکن جانے کیوں تشنگی ہے آنکھوں میں ان کے آنے کا خواب دیکھا تھا اور قیامت کھڑی ہے آنکھوں میں کس کے دیدار کے لئے محکمؔ جان اٹکی ہوئی ہے آنکھوں میں

teri surat basi hai aankhon mein

Similar Poets