Mohsin Darbhangwi
Mohsin Darbhangwi
Mohsin Darbhangwi
Ghazalغزل
یہی تو وقت ہے دل لینے کا لگانے کا شباب پھر نہیں اے دوست جا کے آنے کا نہ آئے اس پہ ستم دیکھیے بہانے کا یہ ابر و باد بہانہ ہوا نہ آنے کا لطیف و نرم و سبک ہوں نسیم کی مانند برا نہ مانے کوئی میرے آنے جانے کا مرے شباب کو یا رب فسانہ ہونا تھا کہاں وہ حسن کہ عنواں ہو اس فسانے کا مزے سے شیخ جی انگور کھائے جاتے ہیں حساب ہوگا کسی روز دانے دانے کا کھڑے ہیں دیر سے مسجد کے سامنے محسنؔ ضرور بھولے ہیں رستہ شراب خانے کا
yahi to vaqt hai dil lene kaa lagaane kaa
وہ آئیں گے بھی مرے گھر تو اور کیا ہوگا یہی کہ درد دل زار کچھ سوا ہوگا ملال اس کا نہ فرمائیں ہو ہی جاتا ہے سنا کچھ آپ نے ہم سے تو کچھ کہا ہوگا مری بھی راہ گزر تھی کبھی گلی ان کی صبا نے نقش کف پا مٹا دیا ہوگا چھڑا ہوا ہے فسانہ کوئی گلستاں میں ہماری ان کی محبت کا ماجرا ہوگا ادھر بھی دیکھیے للہ سوچئے تو سہی ہم آئے ہیں جو یہاں کوئی مدعا ہوگا ہم اور شکوۂ بیداد خیر کیا کہئے کسی نے آ کے یہی آپ سے کہا ہوگا کسی کے ذکر پہ یہ بدگمانیاں توبہ حسین ہوگا کوئی لیکن آپ سا ہوگا ہمارے سامنے یہ چونچلے رقیبوں سے اب ان کی بزم میں جو آئے بے حیا ہوگا جو عمر آپ کے وعدوں پہ کاٹ دے اپنی وہ خاکسار نہیں کوئی دوسرا ہوگا
vo aaeinge bhi mire ghar to aur kyaa hogaa
ملاح خدا جانے کدھر دیکھ رہے ہیں ہم سامنے کشتی کے بھنور دیکھ رہے ہیں آتا تو یقین ان کو وفاؤں کا ہماری وہ اپنی جفاؤں کو مگر دیکھ رہے ہیں زنداں کی سلاخوں سے اسیران بلا بھی احوال سر راہ گزر دیکھ رہے ہیں کب ظلم و ستم ہم نے نہ دیکھا ترے ہاتھوں ہاں آج بہ انداز دگر دیکھ رہے ہیں اللہ رے پھبن سرخیٔ خون شہدا کی ہم تجھ پہ دو عالم کی نظر دیکھ رہے ہیں مارا کسے اے وائے تری خوئے جفا نے میت پہ تجھے خاک بسر دیکھ رہے ہیں اے کشت وفا اب تو ہری ہو کہ تجھے ہم خوں ناب دل خستہ سے تر دیکھ رہے ہیں برگ و گل افسردہ ہیں اے باد خزانی ہم تاب و تب برق و شرر دیکھ رہے ہیں خاموش جو بیٹھے ہیں سر شام سے محسنؔ نیند آ گئی یا راہ سحر دیکھ رہے ہیں
mallaah khudaa jaane kidhar dekh rahe hain
جی میں جب ہمت نہ ہو جی سے گزر جانا بھلا ہر گھڑی مر مر کے جینے سے تو مر جانا بھلا صبر بن آئے نہ جس سے زحمت تدبیر پر اس فرومایہ جسارت سے تو ڈر جانا بھلا حسن خو سے ان کے دل میں راہ پیدا کیجئے ان کے در پر سر پٹکنے سے تو گھر جانا بھلا یاد ہیں ہم کو کئے ہم نے جو وعدے نفس سے ایسے وعدے کر کے وعدوں سے مکر جانا بھلا درد انساں کا نہ ہو دل میں تو دل خوں کیجئے سر جھکے انساں کے آگے اس سے سر جانا بھلا شر ہی کیجے شر سے بھی پھوٹے ہیں چشمے خیر کے کچھ نہ کرنے سے یہاں کچھ کام کر جانا بھلا شاید اے محسنؔ ہماری حد جولاں ہے یہی اور کچھ بڑھنے کی کوشش سے ٹھہر جانا بھلا
ji mein jab himmat na ho ji se guzar jaanaa bhalaa
نہ روداد اپنی کہا چاہتا ہوں نہ اوروں کی بیتی سنا چاہتا ہوں خدا جانے کیوں اس سے جی اٹھ گیا ہے اب اس بزم سے میں اٹھا چاہتا ہوں نہ کر دل جلوں سے گلوں کی حکایت بس اتنا کرم اے صبا چاہتا ہوں نہ رحمت کر اے تند باد حوادث چراغ سحر ہوں بجھا چاہتا ہوں مسرت کی گھڑیاں کہیں بھولتی ہیں مگر میں انہیں بھولنا چاہتا ہوں مرا غنچۂ دل خدا ہی کھلائے نسیم و صبا کی دعا چاہتا ہوں ادھورا تھا محسنؔ مرا نقش ہستی بنا بھی نہ تھا اور مٹا چاہتا ہوں
na rudaad apni kahaa chaahtaa huun
نفرت رہی کسی سے محبت کسی کے ساتھ نبھ تو گئی مری خوش و ناخوش سبھی کے ساتھ چلتے ہو بزم وعظ کو یاران مے کدہ ہو جائے کار خیر بھی کچھ دل لگی کے ساتھ اے چشم ہوش دیکھ گل نو شگفتہ میں کاسہ سوال کا کلہ خسروی کے ساتھ کل ان سے جھوٹ موٹ کا وعدہ کرا لیا آج ان کا انتظار ہے کس بے کلی کے ساتھ حالت یہ ہے کبھی جو ہنسی آ گئی مجھے آنسو بھی کچھ نکل پڑے محسنؔ ہنسی کے ساتھ
nafrat rahi kisi se mohabbat kisi ke saath





