Mohsin Jalganvi
Mohsin Jalganvi
Mohsin Jalganvi
Ghazalغزل
جاگتے زخموں کا انعام ملا ہے مجھ کو ہر نفس زیست کا الہام ہوا ہے مجھ کو دعوت کام و دہن مجھ کو نہ دیں اہل طرب نشۂ تلخیٔ ایام سوا ہے مجھ کو اپنے بن باس کا قصہ میں سناتا کس کو شہر میں جو بھی ملا رام لگا ہے مجھ کو اس نے چاہا تھا وہ اپنے میں چھپا لے خود کو چہرہ چہرہ وہ بہر گام ملا ہے مجھ کو میں ہوں پیغمبر تہذیب مرے پاس آؤ بخش دوں تم کو جو پیغام ملا ہے مجھ کو مجھ سے واقف تھا بہت شہر نگاراں محسنؔ اور کچھ اس نے بھی بدنام کیا ہے مجھ کو
jaagte zakhmon kaa inaam milaa hai mujh ko
زندگی گر نہیں ملتی ہے قضا چاہیں گے تو کسی طرح نہ ہو ہم سے خفا چاہیں گے بد گمانی میں عبث رشتۂ جاں ٹوٹ گیا تو نے پوچھا ہی نہیں ہم سے کہ کیا چاہیں گے خون میں میرے ترے لمس کی خوشبو ہے بہت لوگ سب میرے ہی زخموں کا مزا چاہیں گے بے خطا ہم ہیں صلیبوں کو اٹھائے لیکن تیری مرضی سے ملے گی جو سزا چاہیں گے ایک کشکول کو لڑتے ہیں گداگر سارے کوئی کیا دے گا ہمیں شہر سے کیا چاہیں گے
zindagi gar nahin milti hai qazaa chaaheinge
گھر سے نکل بھی آئیں مگر یار بھی تو ہو جی کو لگے کہیں کوئی کردار بھی تو ہو یہ کیا کہ برگ زرد سا ٹوٹے بکھر گئے آندھی چلے ہواؤں کی یلغار بھی تو ہو سر کو عبث ہے سنگ تواتر کا سامنا صحن مکاں میں شاخ ثمر بار بھی تو ہو انمول ہم گہر ہیں مگر تیرے واسطے بک جائیں کوئی ایسا خریدار بھی تو ہو کاغذ کی کشتیوں میں سمندر لپیٹ لیں پہلو میں تیرے قرب کی پتوار بھی تو ہو سب کو اسی کے لہجہ کی توقیر چاہئے محسنؔ کسی کو میر سا آزار بھی تو ہو
ghar se nikal bhi aaein magar yaar bhi to ho
بساط ذات پتھرائی تو جانا خبر اخبار میں آئی تو جانا سفر آساں نہیں ہے پانیوں کا جو تلوے آ گئی کائی تو جانا لہو کیا چیز ہے اظہار کیا ہے غزل کچھ اور بل کھائی تو جانا تو وہ بھی جھوٹ چہرہ جی رہا تھا جو اس کی آنکھ بھر آئی تو جانا وراثت ساری اپنے نام کر لی مگر اس نے مجھے بھائی تو جانا گھروندے میں بھی اک آتش کدہ تھا ہماری جاں پہ بن آئی تو جانا تھی محسنؔ یہ بھی جنس نا مبارک ہوئی شہرت کی رسوائی تو جانا
bisaat-e-zaat pathraai to jaanaa





